افغانستان بھارت سے جنگی ہیلی کاپٹر خریدے گا | حالات حاضرہ | DW | 06.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان بھارت سے جنگی ہیلی کاپٹر خریدے گا

افغان حکومت ملک میں طالبان کی مسلح بغاوت کے خلاف کامیاب جنگ کے لیے بھارت سے چار جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دفاعی شعبے کے اس معاہدے کو کابل کی اب تک کی پالیسی میں تبدیلی کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

default

افغان صدر اشرف غنی

کابل اور نئی دہلی سے جمعہ چھ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے مابین دفاعی شعبے میں تعاون کا یہ معاہدہ اپنی مالیت میں بہت بڑا تو نہیں لیکن کابل کی طرف سے اس طرح اپنے لیے اتحادیوں کی تلاش کا یہ عمل ممکنہ طور پر ہمسایہ ملک پاکستان کو ناراض کر سکتا ہے۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت سے فوجی مدد کے حصول کے ارادے اس لیے مؤخر کر دیے تھے کہ تب وہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کئی سالہ دو طرفہ کشیدگی کے بعد کچھ قربت کی کوشش کر رہے تھے۔

لیکن افغان دارالحکومت کابل میں متعدد بم دھماکوں کے بعد، جن کی منصوبہ بندی اشرف غنی کے بقول پاکستان میں کی گئی تھی، اور افغانستان ہی میں طالبان کی طرف سے متعدد شہروں کے گھیراؤ کے حالیہ واقعات کے بعد اب اشرف غنی کی سوچ بظاہر بدل گئی ہے اور انہوں نے خطے میں اپنے لیے تائید و حمایت کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

صدر اشرف غنی کے قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف آئندہ ویک اینڈ پر اس لیے بھارت جائیں گے کہ وہ کابل کو ان جنگی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دے سکیں۔ نئی دہلی اور کابل میں اس دوطرفہ معاہدے کی تیاری میں شامل ذرائع کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر روسی ساختہ Mi-25 طرز کے لڑاکا ہیلی کاپٹر ہوں گے۔

افغان حکام کے مطابق ملکی سکیورٹی فورسز کو اپنے لیے زیادہ فضائی طاقت کی اشد ضرورت ہے تاکہ طالبان عسکریت پسندوں کی ان حالیہ عسکری کامیابیوں کا ازالہ کیا جا سکے جو انہیں حالیہ ہفتوں میں حاصل ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق کابل بھارت سے جو ہیلی کاپٹر حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، وہ اپنی ’رینج اور فائر پاور‘ کے لحاظ سے ایسے گن شپ ہیلی کاپٹر ہیں، جن کی افغان دستوں کو اب طالبان جنگجوؤں کے خلاف ضرورت ہے۔

Afghanistan Sicherheitsabkommen mit den USA

افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف (تصویر میں دائیں، کابل میں امریکی سفیر کے ساتھ) سات اور آٹھ نومبر کو بھارت میں ہوں گے

اسی دوران دو طرفہ دفاعی تعاون سے متعلق مذاکرات میں شامل ایک اعلیٰ بھارتی سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام خفیہ رکھے جانے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا، ’’ہم انہیں (افغانستان کو) ہیلی کاپٹر فراہم کریں گے۔‘‘ اس اہلکار کے مطابق یہ ایک ایسا معاہدہ ہے، جس پر بس ’یکبارگی‘ عمل درآمد کیا جائے گا۔

دریں اثناء ایک افغان اہلکار نے بھی ان Mi-25 جنگی ہیلی کاپٹروں کے بھارت سے حصول کے ارادوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل اب ایسی علاقائی طاقتوں کی تلاش میں ہے، جو طالبان کے خلاف لڑائی میں اس کی مدد کر سکیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات