1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: بس کے بیس مسافروں کواغوا کر لیا گیا

افغان حکام کے مطابق ملک کے مغربی حصے میں ایک مسافر بس سے بیس افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ ان مسافروں کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیں۔ کسی گروپ نے ان کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مغربی افغان صوبے فراہ میں ایک مسافر بس پر سوار کم از کم بیس مسافروں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اغوا کی اس واردات میں امکاناً طالبان عسکریت پسند ملوث ہو سکتے ہیں۔

فراہ کی صوبائی کونسل کی خاتون رکن جمیلہ امینی نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے ساتھ بات کرتے ہوئے واضح طور پراغوا کاروں کا تعلق طالبان عسکری تنظیم سے بتایا ہے۔ عسکریت پسندوں نے مسافر بس کو کابل اور ہرات سے ملانے والی شاہراہ پر روکا اور پھر مسافروں کو اتار کر اپنے ساتھ لے گئے۔

کابل میں خودکش حملہ،کم از کم 40 ہلاک

کیا طالبان کے خلاف جنگ صرف فضائی بمباری سے جیتی جائے گی؟

افغانستان: امریکی کامیابیاں، جرائم اور ہلاکتوں کے سبب ماند

افغان طالبان کے خلاف کارروائی میں مدد کر سکتا ہوں، امریکی جنرل

جمیلہ امینی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بس پر پولیس کے تین یا چار اہلکار اور کچھ سرکاری ملازم سوار تھے اور عسکریت پسند اُن کی تلاش میں ہو سکتے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ بیس مسافروں میں پولیس کے کتنے اہلکار اور سرکاری ملازم ہیں۔

صوبائی کونسل کی خاتون رکن نے یہ بھی بتایا کہ پولیس اہلکار اور سکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے دوسرے افراد مقامی قبائلی لیڈروں اور با اثر افراد کے تعاون سے اغوا ہونے والے مسافروں کا کھوج لگانے کی کوشش میں ہیں۔

Afghanistan Straßenszene (picture-alliance/dpa/A. Nemenov)

گزشتہ دو برسوں کے دوران افغانستان میں عسکریت پسندوں نے سینکڑوں مسافروں کو اغوا کیا

یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ برس کے آخری مہینے دسمبر میں طالبان عسکریت پسندوں نے وسطی صوبے غزنی میں ایک بس کے پانچ مسافروں کو اغوا کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ طالبان نے اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں غیرقانونی چیک پوسٹیں بھی قائم کرنی شروع کر دی ہیں۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران افغانستان میں عسکریت پسندوں کے علاوہ بعض منظم جرائم پیشہ گروپوں نے سینکڑوں مسافروں کو اغوا کیا ہے۔ کئی ایک مغویوں کو رہائی بھی حاصل ہوئی لیکن کئی اغوا شدہ مسافروں کو اغواکاروں نے قتل کرنے سے گریز نہیں کیا۔

DW.COM