1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: بامیان کی سکیورٹی ذمہ داریاں افغان فورسز نے سنبھال لیں

افغانستان میں ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے۔ افغانستان میں نیٹو افواج کے مرحلہ وار انخلاء کے ساتھ آج اتوار کے روز بامیان میں افغان سکیورٹی فورسز نے علاقے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

default

بامیان کو اقغانستان کا نسبتاً پر امن صوبہ سمجھا جاتا ہے

اتوار کے روز بامیان صوبے کے پولیس ہیڈ کوارٹر میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں علاقے کا کنٹرول نیٹو افواج کے ہاتھوں سے لے کر افغانستان کی قومی سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا گیا۔ بامیان ان سات علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں سے نیٹو افواج کنٹرول افغان فورسز کے حوالے کر کے رخصت ہو رہی ہیں۔ افواج کا یہ انخلاء امریکی صدر باراک اوباما کے اس اعلان کے بعد شروع ہوا ہے، جس میں انہوں نے اگلے برس موسم گرما تک تینتیس ہزار امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلاء کا وعدہ کیا ہے۔ افغانستان سے تمام تر جنگی افواج کا انخلاء سن دو ہزار چودہ تک مکمل کر لیا جائے گا۔

بامیان میں منعقد ہوئی اس تقریب سے ذرائع ابلاغ کو قدرے دور رکھا گیا اور اس بارے میں کوئی بڑا اہتمام یا شور شرابا بھی نہیں کیا گیا۔ ملکی ذرائع ابلاغ کی بھی اس حوالے سے کوریج خاصی کم تھی۔ تقریب میں افغانستان کے وزرائے دفاع و داخلہ کے علاوہ افغانستان میں نیٹو کے ملٹری کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے ساتھ جاپان اور نیوزی لینڈ کے سفیروں نے بھی شرکت کی۔ بامیان میں کم تعداد میں نیوزی لینڈ، جاپان اور امریکہ کی افواج موجود رہیں گی، جن کا مقصد افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت بتایا گیا ہے۔

NO FLASH Afghanistan Armee Soldat

افغانستان سے تمام تر جنگی افواج کا انخلاء سن دو ہزار چودہ تک مکمل کر لیا جائے گا

تقریب کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ افغان حکام اور نیٹو افسران کو خطرہ ہے کہ طالبان عسکریت پسند ان علاقوں میں سکیورٹی کی منتقلی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان سات علاقوں میں مزار شریف، ہرات اور شورش زدہ جنوبی صوبے ہلمند کا شہر لشکر گاہ بھی شامل ہے ،جہاں طالبان کے حملوں کا خطرہ ہے۔

مبصرین کے مطابق مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ افغانستان سے مغربی افواج کے انخلاء اور سکیورٹی کی ذمہ داریوں کی منتقلی کے عمل کو کامیابی سے طے پاتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان سات علاقوں میں سکیورٹی کی پر امن منتقلی کا مطلب باقی علاقوں میں بھی اس حکمت عملی کی کامیابی ہوگا۔ تاہم دوسری جانب طالبان اور القاعدہ کی یہ کوشش ہو گی کہ وہ اس عمل کو پر تشدد بنا کر دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کریں کہ مغربی افواج کو افغانستان میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM