1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: ایک دن میں 8 نیٹو فوجی ہلاک

افغانستان میں موجود نیٹو کی ISAF افواج کے لیے رواں برس مہلک ترین ثابت ہو رہا ہے۔ ہفتہ کے روز آٹھ غیر ملکی فوجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ رواں ماہ، افغانستان میں کم از کم 23 ISAF فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

default

اتوار کے روز اتحادی افواج کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جنوبی افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ایک بم حملے میں مزید تین نیٹو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ بم حملہ بھی گزشتہ روز کیا گیا تھا۔ قبل ازیں ہفتہ کی صبح بھی پانچ نیٹوکی ISAF فوجی مارے گئے تھے۔ رواں برس غیر ملکی افواج کے لیے یہ مہلک ترین ویک اینڈ ثابت ہوا ہے۔

ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی شہریت اور نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق دونوں حملوں میں ہلاک ہونے زیادہ تر فوجی امریکی ہیں۔ رواں ماہ افغانستان میں کم از کم 23 ISAF فوجی مارے جا چکے ہیں۔

ISAF Britische Truppen in südafghanischer Provinz Helmand

رواں ماہ افغانستان میں کم از کم 23 غیر ملکی فوجی مارے جا چکے ہیں

ہفتہ کے روز مشرقی افغانستان میں واقع ایک امریکی آرمی بیس پر طالبان عسکریت پسندوں کے ایک خود کش حملے میں پانچ غیر ملکی فوجیوں سمیت پانچ افغان فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔ گزشتہ برس دسمبر سے لے کر اب تک انتہاپسند طالبان عسکریت پسندوں کا غیر ملکی فوجیوں پر کیا جانے والا یہ بدترین حملہ تھا۔ دسمبر کے ایک حملے کے دوران چھ نیٹو اور دو افغان فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ہفتہ کے روز یہ حملہ صوبہ لغمان میں جلال آباد شہر کے مغرب میں واقع ایک فوجی اڈے پر کیا گیا۔ خود کش حملہ آور فوجی وردی میں ملبوس تھا۔

جمعہ کے روز افغانستان کے صوبے قندھار میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں صوبائی پولیس کے سربراہ خان محمد مجاہد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان پر اس سے پہلے بھی کئی حملے کیے جا چکے ہیں۔

دیکھا جائے توگزشتہ سالISAF افواج کے لیے خطرناک ترین ثابت ہوا تھا۔ گزشتہ برس کم از کم 711 غیر ملکی فوجی طالبان عسکریت پسندوں کے حملوں میں مارے گئے تھے۔ رواں برس ابھی چوتھا مہینہ جاری ہے کہ اتحادی افواج کے کم از کم 128 فوجی مارے جا چکے ہیں۔ طالبان کی طرف سے زیادہ تر حملے موسم گرما میں کئے جاتے ہیں،جس کا ابھی آغاز ہوا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM