1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان اور بھارت کےتعلقات: خطے پر اثرات کیا ہوں گے؟

بھارت کے ساتھ عسکری اور اقتصادی تعاون کے معاہدے کو افغانستان میں بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موضوع پر ڈوئچے ویلے نے جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر پروفیسر یوخم ہپلر کے ساتھ خصوصی بات چیت کی ہے۔

default

ڈوئچے ویلے: نئی دہلی اور کابل حکومت کے مابین ہونے والے معاہدے کو افغانستان میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟

یوخم ہپلر: یقیناﹰ افغان حکومت کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ افغانستان نے اب طویل عرصے تک اتحادی رہنے والے بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کیے ہیں۔ افغانستان کو اقتصادی فوائد کے ساتھ ساتھ اب مزید غیر ملکی امداد ملے گی۔ معاہدے کا مطلب ہے کہ افغانستان کو امریکہ کے علاوہ بھی ایک اور اہم اتحادی ملا ہے۔

ڈوئچے ویلے: دوسری طرف یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان بھارت اور افغانستان کے درمیان قریبی تعاون کا مخالف ہے۔ دونوں ملکوں کے ساتھ پاکستان کے سرحدی تنازعات بھی چل رہے ہیں۔ پاکستان کا ردعمل کیا ہو گا؟


یوخم ہپلر: پاکستان اس پیش رفت پر کوئی زیاد خوش نہیں ہے۔ اور یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ اسلام آباد کے بغیر افغانستان کا کوئی حل نہیں نکالا جا سکتا اور یہی کابل حکومت کی سب سے بڑی پریشانی ہے۔ افغانستان کے عسکریت پسندوں پر پاکستان کا اثرو رسوخ بہت زیادہ ہے۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان کو افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ کم ہونے کا خوف لاحق ہو سکتا ہے۔ ردعمل کے طور پر پاکستان عسکریت پسندوں کی مزید حمایت کر سکتا ہے، یہ دکھانے کے لیے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن ممکن نہیں ہے۔ مجموعی طور پر اس نئے معاہدے سے، جہاں افغانستان اور بھارت کے درمیان نئے دروازے کھلیں گے، وہاں نئے مسائل بھی جنم لیں گے۔

ڈوئچے ویلے: کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ معاہدہ خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتا ہے اور افغانستان کے وسائل کے لیے مقابلہ بازی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے؟

یوخم ہپلر: میرا نہیں خیال کہ بھارت اور پاکستان افغان وسائل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک وسطی ایشیائی وسائل تک رسائی کے متلاشی ہیں اور ان تک تمام ممکنہ راستے افغانستان سے ہو کر جاتے ہیں۔ اس تناظر میں میرا خیال ہے کہ بھارت پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور بھارت روایتی حریف ہیں۔ اس معاہدے کی وجہ سے پاک افغان اور پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہونے کا بھی خطرہ ہے۔

 ڈوئچے ویلے: امریکہ نے بھارت افغانستان تعلقات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ کیا نئی دہلی، کابل اور واشنگٹن اسلام آباد سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں ؟

یوخم ہپلر: اسلام آباد اور واشنگٹن حکومت کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں، جس کی وجہ ڈرون حملے اور اییٹ آباد کا یکطرفہ آپریشن بنے ہیں۔ مزید یہ بھی کہ امریکہ معاشی لحاظ سے بھارت کو گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان پر ترجیح دیتا آیا ہے۔ امریکہ معاشی لحاظ سے بھارت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ چین کے بعد اسی کا نمبر آتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کو افغان جنگ میں صرف ایک مہرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یقیناﹰ اسلام آباد واشنگٹن کے نئی دہلی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات سے خوش نہیں ہے۔

طاقت کے توازن کے لیے کیا پاکستان چین کا رخ کرے گا ؟

یہ بھی ممکن ہے لیکن چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی کوشش میں پاکستان خود کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ چین کی سیاست صرف اور صرف اپنے مفادات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں چین صرف اسی وقت قابل اعتماد ساتھی ہے، جب اسے بھی کچھ فائدہ ہو رہا ہو۔ اسلام آباد جو بھی چاہے بیجنگ حکومت افغانستان جنگ میں مزید ملوث نہیں ہو گی۔ لیکن پاکستان کے پاس چین کے علاوہ بھی حل موجود ہے۔ وہ بین الاقوامی برادری کو دکھانے کے لیے کہ اس کے بغیر افغانستان کا کوئی بھی حل ممکن نہیں ہے، وہاں مزید تنازعات پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس افغانستان میں امن کے حوالے سے دہلی کا کوئی بڑا کردار نظر نہیں آتا۔

انٹرویو: رتبیل شامل / امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل