1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان امن کی جانب، قومی پارک کا افتتاح

افغانستان کا دل کہلانے والے صوبہ بامیان میں تین دہائیاں قبل ایک پارک ہوتا تھا جو جنگ کے باعث بند کر دیا گیا تھا۔ یہ پارک سیاحوں کے لئے دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔

default

ہجرت کرنے والے پرندے یہاں واقع جھیل کے کنارے موسمی قیام کرتے ہیں

بند امیر نامی اس پارک کی انفرادیت یہاں قدرتی ماحول اور فطری مناظر کا بکھر ارنگ ہے۔ چاروں جانب پہاڑوں اور گرتے ہوئے قدرتی جھرنوں کو دیکھنے ہزاروں سیاح آیا کرتے تھے۔

Karte von Afghanistan mit den Provinzen Baghlan und Bamyan sowie der Hauptstadt Kabul englisch Quelle: DW

بامیان کو افغانستان کا دل کہا جاتا ہے

سویت حملے کے بعد مجاہدین کہلانے والے جنگجوؤں کی کارروائیوں کے باعث اس پارک کو بھی شدید نقصان پہنچا اور سیاحوں نے یہاں کا رخ کرنا مکمل طور پر چھوڑ دیا۔ روسی فوجوں کی واپسی کے بعد طالبان دور حکومت میں بھی اس پارک کو نہ صرف مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا بلکہ 2001 میں بامیان کے اسی پارک کے قریب واقع بدھا کا عظیم اور قدیم مجسمہ دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔

دارالحکومت کابل سے بذریعہ سڑک اس پارک تک پہنچنے کا گرد سے بھرپور راستہ ہے تاہم طالبان عسکریت پسندوں کی مسلسل کارروئیوں کے باعث یہ راستہ غیر ملکی سیاحوں کے لئے انتہائی غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود افغان حکام کو یہ امید ہے کہ سیاح ایک نہ ایک دن دوبارہ اس پارک کا رخ ضرور کریں گے۔

Luftangriff in Afghanistan

مسلسل جنگ نے اس خوبصورت قدرتی پارک کو برباد کر کے رکھ دیا تھا

پارک کی تعمیر نو میں شامل افغانستان کے ڈائریکٹر برائے تحفظ جنگلی حیات سوسائٹی پیٹر سمال وڈ کا کہنا ہے کہ پتھروں اور چٹانوں سے بہتا ہوا نیلگوں شفاف پانی اس پارک کا منفرد قدرتی حسن ہے۔

’’جو قدرتی منظر یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں وہ پوری دنیا میں کہیں نظر نہیں آتے۔‘‘

اس پارک سے گزرنے والی قدرتی نہر کے آس پاس کا گیلا علاقہ مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے یہاں موسمی قیام کرنے والے پرندوں کی جنت کہلاتاہے۔ کئی نایاب نسل کے پرندے صرف یہیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔

مقامی حکام کا خیال ہے کہ گرمیوں کے موسم میں یہاں دنیا بھر سے سیاح آیا کریں گے اور اس سے افغانستان کی معیشت کو بہت سہارا ملے گا۔

قدرتی پارک میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہائشی سید عبدالجعفر بھی بہت پر امید اور خوش ہیں۔

’’ ہم بہت غریب لوگ ہیں۔ اس پارک کے دوبارہ کھلنے کے بعد امیر لوگ یہاں آیا کریں گے۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم ہمیں یہ موقع ضرور ملے گاکہ ہم یہی دیکھ لیں کہ امیر لوگ دیکھنے میں کیسے ہوتے ہیں۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : گوہر نذیر گیلانی