1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: امریکی موجودگی میں کمی، سکیورٹی خدشات میں اضافہ

افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کے باعث مقامی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور ان کی کارکردگی جانچنے کے حوالے سے پینٹاگون کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ بات ایک حکومتی واچ ڈاگ کی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

جب سے افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورسز (ANDSF) نے ملکی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، ملک میں امریکی فورسز کی تعداد کم ہو کر 9800 تک رہ گئی ہے۔ جبکہ امریکی حکومت کے پروگرام کے مطابق آئندہ برس تک یہ تعداد 5500 تک رہ جانی ہے۔

اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) جان سوپکو نے امریکی کانگریس کو پیش کی جانے والی اپنی سہ ماہی رپورٹ میں لکھا ہے، ’’فورسز کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے امریکی فوج ANDSF کو ماہرانہ تربیت اور ان کی براہ راست نگرنی نہیں کر سکتی اور نہ ان کے بارے میں براہ راست قابل اعتبار معلومات جمع کر سکتی ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سوپکو کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب افغانستان کو سکیورٹی کے حوالے سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ افغانستان میں 15 سالہ جنگ کے باوجود طالبان بدستور ایک بڑا خطرہ ہیں۔ حالیہ چند ماہ کے دوران نہ صرف طالبان کی طرف سے مقامی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ انہوں نے افغانستان کے ایک اہم شہر قندوز پر بھی کچھ وقت کے لیے قبضہ کر لیا تھا۔ اس ساری صورتحال سے افغان حکومتی فورسز کے خود پر بھروسے کو دھچکا لگا ہے۔

امریکی اندازوں کے مطابق صرف گزشتہ برس ہی 5500 سے زائد افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ سوپکو نے خبردار کیا ہے کہ اس بارے میں درست معلومات شاید کسی کے بھی پاس نہیں ہیں کہ افغان سکیورٹی اہلکاروں کی بقیہ رہ جانے والی تعداد ہے کتنی۔

SIGAR کی طرف سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ نہ تو امریکا کو یہ درست طور پر معلوم ہے اور نہ ہی افغان اتحادیوں کو کہ افغان پولیس اور فوجیوں کی اصل تعداد ہے کتنی اور ان میں سے کتنے دراصل ڈیوٹی کے لیے دستیاب ہیں۔ پھر ان کی درست صلاحیتوں کے بارے میں بھی کوئی نہیں جانتا۔ اس کے علاوہ امریکا کی کم ہوتی ہوئی موجودگی کا مطلب یہ بھی ہے کہ امریکی فوجیوں کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے جبکہ اس کمی کو ختم کرنے کے لیے افغانستان کی مقامی فورسز کی صلاحتیں بہتر نہیں ہو رہیں۔

امریکی تاریخ کی اس طویل ترین جنگ میں اب تک تقریباً دو ہزار دو سو امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔