1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: امریکی مداخلت کے دس برس

افغانستان میں طالبان حکومت کے زوال کے دس سال مکمل ہونے پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ امریکہ نے اب تک اس ملک میں کی جانے والی فوجی مداخلت سے کچھ حاصل بھی کیا ہے یا یہ سب کوشش رائیگاں گئی ہے۔

default

ایک افغان بچہ اور امریکی فوجی

یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ ستمبر گیارہ کے دہشت گردانہ واقعات کے فوری بعد افغانستان کے ساتھ جو امریکی مقاصد تھے وہ دس برس گزرنے کے بعد اب تبدیل ہو چکے ہیں امریکی صدر اوباما سن 2014 میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کا اعلان کر چکے ہیں۔ سن 2014 میں تمام غیر ملکی فوجوں کی اپنے اپنے وطن واپسی کا بھی سال ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ اب افغانستان سے امریکی مقاصد اتنے گہرے نہیں رہے ہیں جتنے ایک دہائی قبل تھے۔ فوجوں کے انخلا اور امریکی مقاصد کے تناظر میں پانچ دسمبر سے جرمن شہر بون میں شروع ہونے والی افغانستان کانفرنس میں اگلے دو سالوں کے دوران غیر ملکی فوجوں کی واپسی کے معاملے کو مرکزی حیثیت حاصل ہو سکتی ہے۔

Afghanistan Anschlag Selbstmordattentat Flash-Galerie

افغان فوج اور پولیس کی تربیت اہم ہے

اس وقت شورش زدہ افغانستان کے ساتھ جو امریکی مقاصد وابستہ ہیں ان میں افغان سکیورٹی کو وقار اور تقویت دینے کے علاوہ غربت کا خاتمہ، بہتر حکومت سازی اور کرپشن کی بیخ کنی خاصے اہم قرار دیے جا سکتے ہیں۔ افغانستان میں گُڈ گورنس کے لیے دیگر مغربی اقوام بھی کابل حکومت کی رہنمائی کرنے سے گریز نہیں کر رہیں۔ تہتر ارب ڈالر کی خطیر رقم سے امریکہ افغان فوج اور پولیس کی تربیت جدید خطوط پر کرنے کی کوشش میں ہے۔  امریکی پالیسی میں افغانستان سے مغرب اور دوسرے ملکوں تک منظم انداز میں منشیات کی ترسیل کے نیٹ ورک کا مکمل طور پر صفایا بھی اہمیت کا حامل ہے۔  اس مناسبت سے کئی تجزیہ کار افغانستان کو نارکو اسٹیٹ بھی کہتے ہیں۔

اہم امریکی تھنک ٹینک، سینٹر فار اسٹریٹیجیک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (Center for Strategic and International Studies) کے سکیورٹی تجزیہ کار انتھونی کورڈزمین (Anthony Cordesman) کا خیال ہے کہ ابھی تک امریکہ نے سکیورٹی کی مکمل منتقلی کے حوالے سے کوئی قابل اعتماد اور مربوط پلان پیش نہیں کیا ہے۔ کورڈزمین کے خیال میں امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں تھوڑا بہت استحکام حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور یہ عراق جنگ کے نتیجے سے ملتا جلتا ہو سکتا ہے۔ کورڈزمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکہ انخلا کی مناسبت سے اس وقت بہت سارے معاملات کو ایک ساتھ شروع کیے ہوئے ہے جو اسٹریٹیجیک بے چینی کا مظہر بھی ہو سکتا ہے۔

افغانستان میں حالیہ مہینوں میں امریکی مفادات کو حقانی نیٹ ورک سے بھی خاصا نقصان پہنچا ہے۔ اس انتہاپسند نیٹ ورک کی کارروائیوں سے کئی امریکی فوجیوں کی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ حقانی گروپ کے کئی بڑے دہشت گردانہ واقعات میں ملوث ہونے کے شواہد دستیاب ہیں۔ ان میں  امریکی سفارت خانے پر حملہ اور سابق افغان صدر کا قتل انتہائی اہم ہیں۔ حقانی نیٹ ورک کا گڑھ پاکستان کی قبائلی پٹی کے علاقے شمالی وزیرستان میں ہے۔

 اوباما انتظامیہ کو افغانستان جنگ میں اس وقت بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب نیوی کے کمانڈوز نے القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کو دو مئی کے روز ایک خفیہ آپریشن میں ہلاک کردیا تھا۔ امریکی فوجی حلقوں کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے جنوبی افغانستان میں تیس ہزار مزید امریکیوں کی افغانستان تعیناتی سے بہتر نتائج حاصل ہو چکے ہیں اور انتشار زدہ حصے میں سکیورٹی واضح طور پر اب بہتر دکھائی دیتی ہے۔ افغانستان میں سن 2012کے موسم خزاں تک سکیورٹی صورت حال بہت بہتر ہونے کا امکان فوجی کمانڈر دیکھ رہے ہیں جو یقینی طور پر خوش آئند۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  عصمت جبیں 

DW.COM

ویب لنکس