افغانستان: اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے مابین اختلافات میں شدت | حالات حاضرہ | DW | 12.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے مابین اختلافات میں شدت

افغان صدر محمد اشرف غنی اور ان کے اقتدار میں شریک چیف ایگزیکٹیو عبدالله عبدالله کے مابین اختلافات شدید ہونے کے ساتھ ہی ہندوکش کی اس ریاست میں بڑی سیاسی تبدیلی آنے کے آثار نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

افغانستان میں دو سال قبل ایک بحرانی سیاسی صورتحال کے بعد امریکا کی ثالثی میں اشرف غنی اور عبدالله عبداللہ نے قومی اتفاق رائے سے ’’ملی یو والی‘‘ مشترکہ حکومت پر اتفاق کیا تها۔ ستمبر 2014ء کو قائم ہونے والی اس حکومت کے دو سال بهی ابهی پورے نہیں ہوئے که دونوں رہنماوں کے مابین پائے جانے والے پس پرده اختلافات کهل کر سامنے آگئے ہیں۔

صدر اشرف غنی نے ملکی چیف ایگزیکٹیو ’’اجرائیوی رئیس‘‘ عبدالله عبداللہ کے ایک تنقیدی بیان کو حکومت داری کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ صدارتی محل سے جمعے کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر غنی نے کہا ہے که ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور ایسے میں ’’غیر ذمه دارانه رویه‘‘ مناسب نہیں ہے۔

اسے سے قبل اپنے دفتر کے احاطے میں نوجوانوں کے ایک دستے سے خطاب کرتے ہوئے عبدالله عبداللہ نے صاف صاف لفظوں میں صدر اشرف غنی پر کهل کر تنقید کی تھی اور انہیں صدارت کے لیے غیر موزوں شخص قرار دیا تھا۔ عبدالله عبداللہ کا کہنا تھا کہ صدر کے پاس ان سے ملنے تک کا وقت نہیں ہے اور وه تمام بڑے فیصلے بغیر کسی صلاح و مشورے کے خود ہی کر رہے ہیں۔

عبدالله عبداللہ کا تقریر کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’جناب صدر آپ کے پاس اپنے اجرائیوی رئیس سے ملاقات کرنے کا وقت نہیں؟ آپ کا وقت کہاں گزرتا ہے؟ اگر کسی کے پاس مسائل پر بات کرنے کا وقت اور حوصله نہیں وه حکومت کرنے کے بهی قابل نہیں۔‘‘

اپنے خطاب میں انہوں نے الزام عائد کیا که صدر غنی انتخابی اصلاحات سمیت دیگر معاملات کو پس پشت ڈال رہے ہیں اور ایسے لوگوں کو اہم پوسٹوں پر تعینات کر رہے ہیں، جن کا تجربه نه ہونے کے برابر ہے۔

Archivbild Einigung über Einheitsregierung in Afghanistan unterzeichnet

افغانستان میں دو سال قبل ایک بحرانی سیاسی صورتحال کے بعد امریکا کی ثالثی میں اشرف غنی اور عبدالله عبداللہ نے قومی اتفاق رائے سے ’’ملی یو والی‘‘ مشترکہ حکومت پر اتفاق کیا تها

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر غنی خود ایک پیشه ور ٹیکنوکریٹ ہیں اور اسی وجہ سے وہ اپنے آس پاس غیر سیاسی اور پیشه ور افراد کو جمع کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

افغانستان میں سیاسی امور کے ماہر ڈاکٹر نظام الدین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ عبدالله اور غنی کے مابین اختلافات کوئی نئی بات نہیں البته اب ان کے ایسے عام ہونے سے پتا چلتا ہے که عبدالله کے کیمپ میں صبر کا پیمانه لبریز ہو چکا ہے۔ عبدالله کو جمعیت اسلامی پارٹی کی پشت پناہی حاصل ہے، جو طالبان دور کے بعد سے اقتدار میں ہے، صدر غنی البته آہسته آہسته غیر سیاسی اور پیشه ور لوگوں کو سامنے لانا چاه رہے ہیں اور جمعیت کو اس پر تحفظات لاحق ہیں۔‘‘

واضح رہے که جمیعت اسلامی پارٹی کے سربراه اور سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے صاحبزادے صلاح الدین ربانی افغانستان کے وزیر خارجه ہیں اور اس پارٹی کے دیگر اہم رہنما بهی اہم پوسٹوں پر متعین ہیں۔ ان میں سے ایک شمالی صوبه بلخ کے عبوری گورنر عطا محمد نور ہیں، جنہوں نے 2014ء کے صدارتی انتخابات کے نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے عبدالله عباللہ پر زور دیا تها که اپنے طور پر متوازی حکومت کے قیام کا اعلان کردیں۔

افغانستان کے سیاسی ماحول میں ایک ایسے موقع پر گرماگرمی دیکهی جارہی ہے، جب طالبان کے حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ دفاعی امور کے ماہر عتیق الله امرخیل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا که سیاسی قیادت کے مابین تناؤ امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیده کر دے گا، ’’انہیں (غنی اور عبدالله کو) وزیر دفاع کے نام پر اتفاق کرنے میں دو سال لگ گئے، اس بات سے ان کے اختلافات واضح ہیں۔‘‘

تازه رپورٹوں کے مطابق طالبان جنوبی صوبه ہلمند کے مرکز سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں اور وہاں افغان دستوں اور طالبان کے مابین گهمسان کی جنگ جاری ہے۔