1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افغانستان اب اپنے ملک بدر کیے گئے شہری واپس لینے پر آمادہ

جرمن سفارتی ذرائع کے مطابق کابل حکومت جرمنی سے ملک بدر کیے گئے افغان شہریوں کو ان کی واپسی پر قبول کر لے گی۔ اس بارے میں جرمن وزیر خارجہ شٹائن مائر کی افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ بات چیت بھی ہوئی ہے۔

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے جمعہ تیس اکتوبر کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق جرمن سفارتی ذرائع نے اب اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ کابل حکومت مستقبل میں جرمنی سے ملک بدر کر کے واپس بھیجے گئے افغان شہریوں کو اپنے ہاں قبول کر لے گی۔

ویانا میں جرمن سفارتی ذرائع نے بتایا کہ اس موضوع پر آسٹریا کے دارالحکومت میں شامی بحران کے موضوع پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے ٹیلی فون پر افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ بات چیت بھی کی۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ اس گفتگو میں جرمن وزیر خارجہ نے تارکین وطن سے متعلقہ امور کے افغان وزیر کے حالیہ بیانات پر اپنے عدم اطمینان اور بے چینی کا اظہار کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ شٹائن مائر کی طرف سے عدم اطمینان کے اظہار پر افغان صدر غنی نے جرمن وزیر خارجہ کو یقین دہانی کرائی کہ جو کچھ تارکین وطن سے متعلقہ امور کے افغان وزیر نے کہا، وہ غنی حکومت کا موقف نہیں ہے۔

’’صدر اشرف غنی نے شٹائن مائر کو یقین دلایا کہ افغان حکومت اپنے ملک بدر کیے گئے شہریوں کی واپسی سے متعلق خود پر عائد ہونے والی بین الاقوامی ذمے داریاں لازمی طور پر پورا کرے گی۔‘‘

قبل ازیں افغان حکومت میں تارکین وطن کے امور کے وزیر نے کابل میں اس بارے میں اپنے بیان کے ذریعے ایک تنازعہ کھڑا کر دیا تھا کہ آیا کابل حکومت جرمنی سے ملک بدر کیے گئے افغان شہریوں کو واپس لینے کی پابند ہے۔ بعد میں اس وزارت کے ایک ترجمان نے بھی یہ کہہ دیا تھا کہ اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے مابین پہلے سے کوئی اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔

Afghanischer Präsident Ashraf Ghani

شٹائن مائر نے ویانا سے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی

روئٹرز کے مطابق اس افغان وزارت کی طرف سے یہ بات وفاقی جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر کے اس حالیہ اعلان کے ردعمل میں کہی گئی تھی کہ جرمنی میں پناہ کے متلاشی افغان شہریوں کو آئندہ بڑی تعداد میں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

سال روان کے دوران سیاسی پناہ حاصل کرنے کے ارادے سے جرمنی پہنچنے والے افغان شہریوں کی تعداد میں بےتحاشا اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی افغانستان میں سلامتی کی صورت حال ہندو کش کی اس ریاست میں گزشتہ برس کے آخر میں نیٹو کے اس فوجی مشن کے خاتمے کے بعد سے مزید ابتر ہو گئی ہے، جس میں جرمن فوجی دستے بھی شامل تھے۔

افغانستان میں اس سال کے اوائل سے جو جرمن فوجی تعینات ہیں، وہ وہاں پر اب صرف فوجی مشیروں کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

DW.COM