1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان:طالبان کے خلاف حکومتی فورسز کے متعدد آپریشن

اس سال موسم بہار میں شروع ہونے والے طالبان حملوں کے خلاف افغان حکومتی فورسز نے اٹھارہ صوبوں میں آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔

افغانستان کی وزارت دفاع کی طرف سے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 صوبوں میں جاری حکومتی فورسز کے آپریشن میں فضائی قوت اور توپخانے کو بروئے کار لایا گیا ہے اور یہ آپریشن زیادہ تر اُن علاقوں میں کیے جا رہے ہیں جہاں طالبان باغیوں نے حکومتی فورسز کے خلاف نہایت جارحانہ کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ حکومتی فورسز ان علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

افغان حکومتی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 80 حکومت مخالف جنگجو، جن میں سے نو کا تعلق ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے ہے، ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ وزارت دفاع کے بیان کے مطابق ان حکومتی آپریشنز میں چھ افغان فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

طالبان عناصر، جنہوں نے کابل حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے امکانات کو یہ کہہ کر سرے سے رد کر رکھا ہے کہ یہ مذاکرات اُس وقت تک ممکن نہیں ہیں جب تک افغانستان میں غیر ملکی افواج موجود ہیں، نے اپنے امسالہ بہاریہ حملوں کا سلسلہ 12 اپریل سے شروع کیا تھا۔ اس بار اپنے حملوں کی شدت اور نوعیت کی تفصیلات بھی طالبان اراکین نے دی دی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ حکومت کے سخت کنٹرول والے علاقوں میں حملے کرنے کے ساتھ ساتھ خود کُش حملے اور ٹارگٹ کِلنگ بھی کریں گے۔

Taliban Afghanistan

طالبان کے امسالہ بہاریہ حملوں کا آغاز 12 اپریل سے ہوا تھا

افغانستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قدم شاہ شاہیم نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’طالبان نفسیاتی جنگ کر رہے ہیں۔ وہ عوام کا حکومت پر سے اعتماد کمزور کرنا اور ان کے حوصلے پست کرنا چاہتے ہیں تاہم وہ اس چال میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔‘‘

افغان سکیورٹی اہلکاروں نے کہا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی اس وقت امن مذاکرات کے جمود کی وجہ سے نہایت مایوس ہیں اور انہوں نے حکومتی فورسز کو طالبان کے خلاف بھرپور آپریشن کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

رواں ہفتے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے طالبان دہشت گردوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور افغان شہریوں کی طالبان کے ہاتھوں ہلاکتوں کا شدید انتقام لینے اور دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

حکومتی فورسز نے شمالی شہر قندوز میں طالبان کو پسپا کرنے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے۔ قندوز ہی وہ شہر ہے جہاں گزشتہ برس طالبان باغیوں نے حملہ کر کہ مختصر عرصے کے لیے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ صوبے ہلمند میں بھی حکومت نے طالبان باغیوں کو کافی حد تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔

DW.COM