1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افریقی ملک نائجیریا میں صدارتی الیکشن

دو ہفتے قبل نائجیریا میں پارلیمانی ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا تھا۔ ہفتہ سولہ اپریل کو صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی۔ اس ماہ کے آخر میں تمام صوبوں کے گورنروں کا انتخاب ہو گا۔

default

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نائجیریا میں صدر گڈلک جوناتھن کا آج ہفتے کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی کا امکان زیادہ ہے۔ صدر جوناتھن کوسابق فوجی حکمران محمد بوہاری کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ضرور ہے۔ صدر جوناتھن اگر اس الیکشن میں کامیاب ہو گئے تو وہ تیل کی دولت سے مالا مال نائجر ڈیلٹا سے صدر منتخب ہونے والے پہلے صدر ہوں گے۔ اسی ڈیلٹا میں حکومت مخالف مسلح تحریک بھی جاری ہے۔

Nigerias Präsident Goodluck Jonathan

صدرگڈ لک جوناتھن

حالیہ پارلیمانی انتخابات میں صدر کی پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو توقع سے کم ووٹ ملے تھے۔ اس تناظر میں اپ سیٹ کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ سن 1999 کے بعد سے نائجیریا میں تمام صدر اسی جماعت کے پلیٹ فورم سے منتخب ہوتے چلے آئے ہیں۔ اس مناسبت سے بھی ان کی جیت یقینی بتائی جاتی ہے۔ نائجیریا کے سابق صدر Umaru Yar'Adua کے وہ نائب صدر تھے اور ان کی رحلت کے بعد ہی وہ منصب صدارت پر فائز ہوئے تھے۔

گڈ لک جوناتھن کے اصل حریف سابق فوجی جرنیل محمد بوہاری ہیں۔ ان کا تعلق نائجیریا کے مسلمان شمالی حصے سے ہے۔ وہ دسمبر 1983 سے اگست 1985 تک نائجیریا کے فوجی صدر رہ چکے ہیں۔ وہ ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں برسراقتدار آئے تھے اور ایک دوسری بغاوت کے نتیجے میں منصب سے فارغ کردیے گئے تھے۔

Muhammadu Buhari Nigeria Wahl

صدارتی امیدوار محمد یوہاری

بوہاری کی سیاسی جماعت کانگریس فار پروگریسو چینج ایک نئی سیاسی پارٹی ہے لیکن اس نے حالیہ پارلیمانی الیکشن میں اچھے ووٹ حاصل کر کے سیاسی ماہرین کو حیران کردیا تھا۔ سابق فوجی حکمران بوہاری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سخت منتظم ہیں۔ پارلیمانی انتخابات کی طرح صدارتی الیکشن میں بھی ملک کے اندر سے کرپشن کا خاتمہ ان کا بڑا نعرہ ہے۔ شمالی حصے میں ان کو بہت بڑی تعداد میں ووٹ ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

Nigeria Ibrahim Shekarau und Nuhu Ribadu

دو دوسرے امیدوار: ابراہیم شیکراؤ ( بائیں) اور نُوہُو رَبادُو (دائیں)

ان دونوں اہم امیدواروں کے علاوہ دو اور سیاسی لیڈران بھی صدارتی الیکشن میں شریک ہیں۔ ان میں انسداد کرپشن کے شعبہ کے سابق چیف نُوہُو رَبادُو اور کانو صوبے کے گورنر ابراہیم شیکراؤ ہیں۔ نُوہُو رَبادُو کا گڑھ جنوبی مغربی علاقہ ہے۔ بوہاری اور نُوہُو ربادُو کے درمیان الیکشن حکمت عملی کی بات چیت ناکام ہو گئی تھیں۔ ان کی الیکشن میں موجودگی کا یقینی فائدہ صدر گڈ لک جوناتھن کو ہو گا کیونکہ ان کے مخالفین کے ووٹ تقسیم ہو سکتے ہیں۔

صدارتی الیکشن کے موقع پر دو بم دھماکوں کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ دونوں دھماکے ملک کے شمال مشرقی حصوں میں ہوئے ہیں۔ نائجیریا میں اسی ماہ کے آخری دنوں میں تمام صوبوں کے گورنروں کا الیکشن بھی ہو گا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس