1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افریقی ملک جمہوریہ گنی میں اقتدار کی رسہ کشی

جمہوریہ گنی میں اقتدار کی کشمکش کے سلسلے میں فوجی حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے سخت موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حکومت مخالف ایک بڑی ریلی کو فوج کی گولیوں کا نشانہ بننا پڑا، ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہے۔

default

جمہوریہ گنی کے فوجی سربراہ کیپٹن موسیٰ دادس، اپنی رہائش گاہ پر غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے۔ فائل فوٹو

افریقی ملک گنی کے دارالحکومت کوناکیری میں اپوزیشن کی ایک ریلی پرسیکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو ئے۔ خبررساں ادارے AFP نے پولیس ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک سو ستاون ہے۔ منگل کو بھی انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق مزید تین افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ دوسری طرف صدر کیٹن موسیٓ کمارا نے اِن ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار ضرور کیا لیکن اُن کی حکومت نے تدقین کے لئے اجتماع پر پابندی بھی عائد کردی ہے۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے اپوزیشن ملک میں اقتدارعوامی نمائندوں کو منتقل کرنے کی بات کر رہی ہے۔ اِس سلسلے میں دارالحکومت کونا کیری میں گزشتہ روز حکومت مخالف ریلی کو فوج نے زبردستی کچلنے کی کارروائی کی۔ فوجیوں نے حکومتی اجازت کے بعد عوام پر فائرنگ کی اور نتیجتاً درجنوں افراد اس کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ فوج کی فائرنگ سے قبل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہو گیا تھا۔

مقامی ڈاکٹروں کی جانب سے بھی یہ خبر بین الاقوامی میڈیا پر آئی ہے کہ ہسپتال لائے جانے والے بیشتر زخمیوں کو گولیوں کے زخم تھے۔ زیادہ تر زخمی ڈونکا یونیورسٹی کے طبی مرکز میں لائے گئے تھے۔ لاشوں کو ایک قریبی فوجی کیمپ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

Moussa Dadis Camara

کیپٹن موسیٰ دادس

اپوزیشن کی ریلی میں کم از پچاس ہزار افراد شریک تھے۔ ریلی کے شرکاء کوناکیری شہرسے باہر ایک سٹیڈیم میں جمع ہوئے تھے، جس میں موجودہ فوجی صدر کے خلاف نعرے لگائے جانے کے علاوہ لوگوں نے پلے کارڈ اوربینر بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ ریلی میں شریک دو سابق وزرائے اعظم کو زخمی حالت میں ہسپتال سے گرفتار کرنے کے بعد ایک فوجی کیمپ پہنچا دیا گیا ہے۔ Cellou Dalein Diallo کے علاوہ ایک اورسابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر Sidya Toure نے بعد میں ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ فوج ان کی ریلی پر براہ راست فائرنگ کررہی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ وہ سب کو ہلاک کرنے کی درپے تھی۔ سدیہ طورے بھی زخمی ہوئے ہیں اوراُن کو سرپرشدید چوٹ آئی ہے۔ گرفتاری سے قبل انہوں نے ہسپتال کے طہارت خانے سے بین الاقوامی میڈیا سے بات کی۔ ہسپتال میں فوج تعینات ہے اور کسی کو بھی فون پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

ریلی کی بنیادی وجہ اگلے برس جنوری میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں ملک کے فوجی صدر کیپٹن موسیٰ دادس کی دلچسپی ہے۔ دارالحکومت کوناکیری کی سڑکوں پرفوج کی چیک پوسٹ قائم ہو چکی ہیں اورمیڈیا کو شہرسے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ شہر میں انتہائی خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔

گنی میں اندرونِ خانہ لاوا پک رہا ہے اور یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ روز کی اپوزیشن ریلی میں فوج کو عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا ہوگا۔ ماضی میں جمہوریہ کانگو پر حکومت کرنے والے ملک فرانس کی جانب سے اپوزیشن کی ریلی پر فوج کی فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ امریکہ نے بھی اس واقعے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

مغربی افریقہ کے ملک جمہوریہ کانگو میں تیئس دسمبر سن دو ہزار آٹھ سے اقتدار کی رسہ کشی نے اب شدت اختیار کر لی ہے۔ چوبیس سال تک اقتدار پر براجمان رہنے والے صدر Lansana Conte کی موت کے بعد فوج نے حکومت کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ ایک انتہائی گمنام کیپٹن موسیٰ دادس چمارا نے فوجی بغاوت کے بعد خود کو گنی کا صدر نامزد کردیا۔ گنی کی آبادی کا 85 فیصد مسلمان شہریوں پر مشتمل ہے۔ گنی معدنیات کے لحاظ سے زرخیز ہے اور ایلمونییم کی خام شکل بکسائٹ یا ایلو مینیم ہائیڈرو آکسائیڈ سب سے زیادہ اِسی ملک سے مختلف ملکوں کو روانہ کی جاتی ہے۔

رپورٹ : عابد حسین

ادارت : عاطف توقیر