1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افریقی ملک بوٹسوانہ میں تعلیم کے بہتر ہوتے ہوئے امکانات

افریقی ملک بوٹسوانہ میں شکار کے لئے کالا ہاری کے مشہور علاقے کے ایک گاؤں مں پیدا ہونے والے بی ہیلا سیکیرے کو یہی علم نہیں تھاکہ یونیورسٹی کیا ہوتی ہے۔

default

بی ہیلا سیکیرے نے کبھی خواب بھی نہیں سوچا ہو گا کہ ایک دن وہ کسی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیمی سند حاصل کر پائے گا۔ لیکن اب افریقہ کے سب سے پسماندہ ملکوں میں شمار ہونے والے بوٹسوانہ کے ایک گاؤں میں اپنا بچپن گزارنے والے اس شہری کو یہ امکان میسر ہے کہ وہ خود کو پسماندگی کے اندھیروں سے نکال سکتا ہے۔

Botsuana Ghanzi

سان کےگھنے جنگلات میں رہنے والےعرف عام میںBush peopleکہلاتے ہیں

بی ہیلا کا تعلق بوٹسوانہ میں سان کےگھنے جنگلات میں رہنے والے ان باشندوں سے ہے، جو عرف عام میںBush peopleکہلاتے ہیں۔

اس28سالہ نوجوان کا کہنا ہے کہ بوٹسوانہ میں سان بچوں کے لئے اسکول کی تعلیم حاصل کرنا پہلے تو ممکن ہی نہیں تھا لیکن بعد میں، جب ان بچوں کو کوئی امکان نظر آیا تو انہیں قریب ترین اور بہت سادہ سے اسکول تک پہنچنے کے لئے بھی ہر روز کئی کلو میٹر پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔

اب بی ہیلا سیکیرے سان علوم کے تحقیقاتی مرکز میں ترقیاتی علوم کے شعبے میں اپنا ماسٹرز ڈگری کورس مکمل کر رہا ہے اور اسے خوشی ہے کہ اس نے گزشتہ سال شروع کئے گئے اس نئے تحقیقی مرکز کے ذریعے یونیورسٹی کی سطح کی ڈگری حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

Botsuana Ghanzi

نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوتے ہوئے خود کو ترقی کی راہ پر گامزن کر نا ہے

یہ ریسرچ سینٹر یونیورسٹی کے کیمپس میں قائم ہے، اسے بہت سی غیرملکی یونیورسٹیوں کا تعاون بھی حاصل ہے اور بی ہیلا سیکیرے کا کہن‍ا ہے کہ وہ بہت خوش ہے کہ عنقریب ہی اپنی ایم اے کی تعلیم مکمل کرتے ہوئے وہ عام لوگوں سے بوٹسوانہ میں سان نسل کے ایک اعلی تعیم یافتہ نوجوان کے طور پر مخاطب ہو سکے گا۔

بوٹسوانہ کے انتہائی پسماندہ علاقوں میں اب بہت سے نوجوانوں کو یہ امکان ملا ہے کہ وہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوتے ہوئے خود کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں اور اس میں سان علوم کا ریسرچ سینٹر اور یونیورسٹی آف بوٹسوانہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس