1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افریقی حکمرانوں کو اقتدار سے اتنا پیار کیوں؟

براعظم افریقہ کے حکمران اقتدار میں رہنے کے لیے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تو کرتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر وہ ملکی آئین کو تبدیل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس تناظر میں ایک فہرست۔

یوگنڈا کے یوویری موسیوینی 1986ء سے منصب صدارت پر براجمان ہیں اور انہوں نے 2006ء میں ملکی آئین میں ردو بدل کرتے ہوئے مدت صدارت کے قانون کو ختم کر دیا تھا۔ زمبابوے کے روبرٹ موگابے 2013 میں اقتدار میں رہنے کے حوالے سے مدت متعارف کرائی تھی اور اس کی وجہ تھی کہ وہ 2018ء کے انتخابات میں بھی حصہ لینا چاہتے ہیں۔ بانوے سالہ موگابے بطور صدر اور وزیراعظم گزشتہ چھتیس برسوں سے ملکی اقتدار سے کسی نہ کسی طرح جڑے ہوئے ہیں۔

انگولا میں مدت اقتدار کے حوالے سے 2011ء میں قوانین متعارف کرائے گئے تھے لیکن ان پر ابھی تک عمل نہیں ہو سکا ہے۔ صدر ژوزے ایدوآردو دوس سانتوس نے 38 سال کی حکمرانی کے بعد کہا ہے کہ وہ 2017ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

دینس ساسو پہلی مرتبہ 37 برس قبل کانگو کے صدر بننے تھے۔ تاہم 73 سالہ ساسو پچھلے 32 برسوں سے مسلسل اس عہدے پر فائز ہیں۔ برونڈی میں پیئر اینکرونزیزا نے آئین میں دو مرتبہ کی مدت صدارت کو اس لیے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ بقول اُن کے کہ پہلی مرتبہ انہیں پارلیمان نے منتخب کیا تھا نہ کہ عوام نے براہ راست۔ 2015ء میں اینکرونزیزا کے دوبارہ انتخاب کے بعد ملک بھر میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔

روانڈا میں 2016ء کے دوران آئین کو تبدیل کیا گیا کیونکہ گزشتہ برس ملکی عوام نے ایک دستخطی مہم کے ذریعے صدر پاؤل کاگامے کی سولہ سالہ مدت صدارت کو 2034ء تک بڑھانے کی حمایت کی تھی۔ روانڈا کی پوری آبادی نے آئین میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم ناقدین نے اس عوامی حمایت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جمہوریہ کانگو میں جوزیف کابیلا تیسری مرتبہ صدر بننا چاہتے تھے تاہم عوامی دباؤ کی وجہ سے وہ آئین میں تبدیلی نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملکی آئین کا احترام کرتے ہیں لیکن نومبر میں ہونے والی صدارتی انتخابات کو انہوں نے اپریل 2018ء تک ملتوی کر دیا۔ اس طرح انہیں اقتدار میں رہنے کے لیے مزید وقت مل گیا۔

گنی میں 1979ء سے تیودورو اوبینگ آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے ابھی تک برسر اقتدار ہیں۔ گیمبیا میں صدر یحٰیی جامع انتخابات ہارنے کے باوجود اقتدار چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں جبکہ کیمرون میں پاؤل بیا 1982ء سے صدر ہیں۔ انہوں نے 2008ء میں آئین میں مدت صدارت کے حوالے سے شق کو ختم کر دیا تھا۔