1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افریقی باشندوں پر حملے، نئی دہلی پولیس کی کارروائیاں

بھارتی دارالحکومت کی پولیس نے افریقی باشندوں پر حملے کرنے کے سلسلے میں تین مزید مقدمے درج کیے ہیں۔ کانگو کے ایک شہری کے قتل کے بعد سے پولیس نے مقدمات درج کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف افریقی ملکوں کے باشندوں کو مارنے پیٹنے افریقی باشندوں پر حملے اور ڈرانے دھمکانے والوں کے خلاف نئی دہلی پولیس نے تین نئے مقدمے درج کیے ہیں۔ یوگنڈا اور جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کو ڈرانے دھمکانے کے علاوہ ہراساں کیا گیا جبکہ نائجیریا کے دومردوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بھارتی دارالحکومت کی پولیس کے سینیئر اہلکار ایشور سنگھ کے مطابق رپورٹس درج کرنے کے بعد تفتیشی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ سنگھ کے مطابق ان چاروں میں سے کسی ایک کو بھی شدید زخم نہیں آئے ہیں صرف نائجیریا کے شہری لوائچی کو ہلکی نوعیت کی چوٹییں لگی ہیں۔

بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اِن تازہ واقعات کی شدید انداز میں مذمت کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ حملہ کرنے والوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے عدالتی کٹہرے تک لائے تا کہ انہیں اِن کے جرائم کی سزا سنائی جا سکے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران ایک بھارتی جونیئیر وزیر نے بھی افریقی باشندوں کو ڈرانے دھمکانے سے پیدا ہونے والی صورت حال کو بہتر بنانے کے حوالے سے افریقی ملکوں کے سفیروں کے گروپ کے سربراہ سے ملاقات کی تھی۔

Indien Uber-Fahrer Shiv Kumar Yadav Prozess

دہلی پولیس افریقی باشندوں کے خلاف پرتشدد حملے کرنے والوں کے خلاف سرگرم ہو گئی ہے

افریقی ملک نائجیریا کے باشندوں کا مقامی لوگوں کے ساتھ جھگڑا جنوبی دہلی میں ہوا۔ افریقی باشندے میوزک بجانے کے علاوہ شراب نوشی میں مصروف تھے کہ امقامی لوگوں نے اُن پر اعتراض کیا اور معاملہ سنگین شکل اختیار کر گیا۔

ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ بھارت میں افریقی باشندوں کے خلاف مقامی آبادی میں برداشت کم ہونے لگی ہے۔ اسی تناظر میں کانگو کے ایک باشندے کی ہلاکت کو دیکھا گیا ہے۔ کانگو کے شہری مسونڈا کتاڈا اولیور کو ایک تنازعے میں ڈنڈے مار مار کر تین افراد نے قتل کر دیا تھا۔ اولیور بھارت میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھانا شروع کر چُکا تھا۔ اولیور کے قتل پر بھارت میں مقیم افریقی ملک کے سفیروں نے انتہائی سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور اِس قتل کو نسلی تعصب کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔

افریقی سفارتخانوں کے گروپ نے ایک بیان جاری کیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی حکومتوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ اب تعلیم کے حصول کے لیے طلبا کو بھارت نہ روانہ کیا جائے۔ سفیروں کے مطابق طلبا کے روانہ کرنے پر یہ پابندی اُس وقت تک رکھی جائے جب تک نسلی تعصب کی بنیاد پر کیے گئے حملوں کے مرتکب ملزموں کو گرفتار نہیں کیا جاتا اور مجموعی سلامتی کی صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی۔

بھارت کی وزارت خارجہ نے افریقی نژاد شہری کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ نسلی تعصب کی واردات نہیں ہے اور اِس وقت بھارت میں کئی ہزار افریقی طلبا بلا خوف و خطر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

DW.COM