1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افریقی امریکی شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کی ’لائیو اسٹریمنگ‘

جمعرات کے روز ایک خاتون کی بنائی ہوئی وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر ’وائرل‘ ہو گئی جس میں مینیسوٹا کی پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے آخری لمحات کو فلم بند کیا گیا تھا۔

''او میرے خدا! خدارا، یہ مت کہنا کہ یہ مر گیا ہے! یہ مت کہنا کہ میرا بوائے فرینڈ یوں ہی چلا گیا ہے۔ سر، آپ نے اس پر چار گولیاں چلائی ہیں!‘‘ یہ الفاظ اس خاتون کے ہیں جس نے اپنا نام لیوش رینلڈز بتایا ہے۔ یہ الفاظ وہ اس ویڈیو میں کہہ رہی ہے جو اس نے اپنے موبائل فون سے بنائی تھی۔

پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مینیسوٹا میں ایک پولیس افسر نے اس افریقی امریکی پر گولیاں چلائی تھیں۔ اہل خانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس شخص کا نام فیلانڈو کاسٹیل بتایا ہے۔ اس کی عمر بتیس برس تھی۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کاسٹیل اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کی سفید قمیص کے اندر سے خون رِس رہا ہے۔ رینلڈز اس کی قریبی سیٹ پر بیٹھی ہے اور اس کی بیٹی بھی اسی گاڑی میں سوار ہے۔

اس واقعے سے ایک روز قبل لوئیزیانا میں بھی پولیس نے ایک افریقی امریکی شخص کو قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ یہ شخص پانچ بچوں کا باپ تھا۔ واقعے کی تفتیش وفاقی اہل کار کر رہے ہیں۔

یہ ہلاکتیں ایک ایسے وقت ہوئی ہیں جب جمعرات کے روز بالٹیمور میں سیاہ فام نوجوان فریڈی گِرے کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت سے متعلق مقدمے کی سماعت ہونے والی ہے۔

مینیسوٹا میں ہونے والی ہلاکت کی ویڈیو فیس بک پر لائیو نشر کی گئی، جسے سترہ لاکھ افراد نے دیکھا۔

رینلڈز کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑی کو پولیس نے پچھلی بتی خراب ہونے کی وجہ سے رکوا دیا تھا۔ بعد ازاں اس کا کہنا تھا کہ گاڑی میں چرس بھی موجود تھی۔ کاسٹیل کے پاس اسلحے کا لائسنس بھی تھا۔ جوں ہی اس نے لائسنس اور گاڑی کی رجسٹریشن کے کاغذات نکالنے کی کوشش کی، پولیس نے اس پر گولیاں چلا دیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے اور جائے وقوعہ سے ایک بندوق برآمد ہوئی ہے۔

ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ گولیاں لگنے کے بعد کاسٹیل کراہ رہا ہے اور ایک پولیس افسر اس پر بندوق تانے ہوئے ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’میں نے تم سے کہا تھا نہ کہ کچھ نکالنے کی ضرورت نہیں، صرف ہاتھ بلند کر لو!‘‘

DW.COM