1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افریقہ میں قذافی کے خلاف امریکی سفارتی مہم

امریکہ نے کئی افریقی ملکوں میں لیبیا کے رہنما قذافی کے خلاف ایک سفارتی مہم شروع کر دی ہے اور اس کے سفارتکار کئی افریقی ممالک کے رہنماؤں کو قائل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ وہ قذافی پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

default

لیبیا کے رہنما معمر قذافی افریقی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ، فائل تصویر

مگر افریقہ کے کئی ممالک ماضی میں قذافی کی پالیسیوں سے مالی فوائد حاصل کرتے رہے ہیں اور وہ ان پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے سلسلے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ اس کی بجائے انہوں نے لیبیا میں نیٹو کے فوجی حملوں پر نکتہ چینی کی ہے۔

فروری میں معمر قذافی کی جانب سے حزب اختلاف کے مظاہرین کے خلاف خونریز کارروائیوں کے بعد طرابلس چھوڑ جانے والے امریکی سفیر جین کریٹز پیر کو افریقی یونین کے ہیڈکوارٹر ادیس ابابا پہنچے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے دورہء افریقہ کا مقصد افریقی یونین کی رکن ریاستوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں میں لیبیا کے بحران پر تبادلہ خیال کرنا اور قذافی کے اقتدار چھوڑ دینے کی ضرورت پر زور دینا ہے۔

Flash-Galerie Lybien Gaia Anderson

لیبیا کے باغیوں نے اگرچہ کچھ پیشرفت کی ہے مگر وہ قذافی کی منظم اور بہتر تربیت یافتہ فوج کا مقابلہ کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں

جین کریٹز نے ایتھوپیا کے وزیر اعظم میلس زیناوی سے ملاقات کی اور وہ افریقی یونین کے سربراہ ژاں پنگ سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے لیبیا کی حزب اختلاف کی قومی عبوری کونسل کے رہنما محمود جبریل سے بھی ملاقات کی، جو ایتھوپیا کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے جون میں افریقی یونین کے ہیڈکوارٹر کے دورےکے موقع پر تمام افریقی ملکوں پر زور دیا تھا کہ وہ قذافی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مقرر کردہ تمام سفارتکاروں کو بھی ملک بدر کر دیں اور لیبیا کی حزب اختلاف کی مدد کریں۔

ادھر لیبیا کا بحران جاری ہے اور کسی فضائی حملے میں معمر قذافی کی ہلاکت یا اندرونی انقلاب کے بغیر ان کے اقتدار چھوڑنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ حزب اختلاف کی فورسز نے حالیہ ہفتوں میں کچھ پیشرفت کی ہے مگر وہ قذافی کی منظم اور بہتر تربیت یافتہ فوج کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

Libyen Chamis Gaddafi Sohn von Muammar Gaddafi getötet

لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن پر خمیس قذافی کو طرابلس میں ہونے والے ایک حملے کے زخمیوں سے ملاقات کرتے دکھایا گیا ہے

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ قذافی کے حامی یہ سوچ رہے ہیں کہ تنازعے کے مزید طول پکڑ جانے کی صورت میں باغیوں کے دھڑے میں اندرونی اختلافات پیدا ہو جائیں گے اور مغربی طاقتیں کچھ عرصے کے بعد اپنی کوششیں ترک کر دیں گی، لہٰذا اگر وہ مزید چھ مہینے یا ایک سال اسی طرح گزار لیں تو یہ قذافی اور ان کے حامیوں کی کامیابی ہوگی۔

کل منگل کے روز اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ لیبیا کی حکومت نے اس عالمی ادارے سے کہا ہے کہ قذافی حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں خوراک، ایندھن اور ادویات کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ اس صورت حال سے مغربی لیبیا میں بے چینی پھیل سکتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اتحاد کے خلاف بھی فضا تیار ہو سکتی ہے کیونکہ لازمی ضرورت کی ان اشیاء پر پابندیوں کے لیے انہیں ہی مورد الزام ٹھہرایا جائے گا۔ پہلے ہی قذافی کے حامی یہ دعوٰی کر رہے ہیں کہ نیٹو کے حملوں میں بہت سے عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک نئی پیشرفت میں لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن پر معمر قذافی کے بیٹے خمیس قذافی کو طرابلس میں ہونے والے ایک حملے کے زخمیوں سے ملاقات کرتے دکھایا گیا ہے، جس سے باغیوں کے خمیس کی ایک حالیہ فضائی حملے میں ہلاکت کے دعووں کی نفی ہوتی ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM