1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افریقہ: بھوک کا بحران کرپشن اور بد انتظامی کے سبب

افریقہ کے بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام بھی ہیں۔

default

بھوک کے شکار صومالی باشندوں کی نا گفتہ بہ صورتحال

قرن افریقہ میں پائی جانے والی قحط سالی کو اکثر و بیشتر ماحولیاتی تبدیلیوں اور اُن کے منفی اثرات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ تاہم افریقہ کے بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام بھی ہیں۔ داداب شمالی کینیا میں واقع دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ ہے۔ یہاں ہر روز ایک سے دو ہزار صومالی مہاجرین آتے ہیں۔ یہ دراصل بھوک کے مارے ہیں اور ایک ایسے ملک سے فرار چاہتے ہیں، جہاں دراصل کسی ریاست کا وجود نہیں۔

Superteaser NO FLASH Hunger in Dadaab Kind

شمالی کینیا کے مہاجر کیمپ ’داداب‘ میں قحط زدہ دو سالہ بچہ

’جنوبی صومالیہ کے حالات اتنے خراب اور غیر واضح ہیں کہ ہمارے لیے وہاں جانا بہت ہی خطرناک ہو گیا ہے۔ باغی گروپ محض ماحول کو پر تشدد بنانے کی ٹھانے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہاں بدترین قحط پایا جاتا ہے۔ اس کے سبب صومالیہ میں ایک اہم غذا کی حیثیت رکھنے والے اناج ’ باجرے‘ کی قیمت کچھ عرصے قبل کے مقابلے میں دوگنا ہو گئی ہے‘۔ یہ کہنا ہے، ورلڈ فوڈ پروگرام کے جرمن ترجمان ’رالف زیوڈ ہوف‘ کا۔ جرمن ادارہ برائے ترقیاتی سیاست سے منسلک ایک زرعی ماہر مشائل براؤن ٹروپ کے مطابق صومالیہ ایک ناکام ریاست ہے۔ وہاں حکومت کا کوئی وجود نہیں اور یہی ایک بنیادی وجہ ہے، وہاں بھوک کے بحران کی۔ وہ کہتے ہیں’یہ ایک بہت ہی غریب ملک ہے۔ تاہم گزشتہ دس سالوں کے دوران یہاں کے زرعی شعبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری ہوئی ہے اور ہر سال وہاں بھوک کے شکار انسانوں کی شرح میں ایک سے ڈیڑھ فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ اُدھر ایتھوپیا کی آدھی آبادی کم خوراکی کا شکار ہے اور ساتھ ہی یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ وہاں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان ممالک میں کافی کچھ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم یہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔‘

Flash-Galerie Dürre ohne Ende Somalische Flüchtlinge strömen wegen Dürre nach Äthiopien

قحط سالی کے سبب صومالی مہاجرین کا رخ ایتھوپیا کی طرف

زرعی امور کے ماہر مشائل براؤن ٹروپ افریقی یونین کی طرف سے 2003 ء میں جاری کردہ ’ماپوتو اعلامیے‘ کو سراہتے ہیں، جس کے تحت افریقی ممالک نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ مجموعی ملکی بجٹ کا 10 فیصد زراعت پر خرچ کریں گے۔ جرمن ماہر کے مطابق یہی واحد طریقہ ہے، قرن افریقہ میں پائی جانے والے بھوک کے بحران سے نمٹنے کا۔

عالمی برادری کی طرف سے قرن افریقہ کے لیے اضافی امداد کے وعدوں کے باوجود یہ رقوم نہایت سست رفتاری سے وہاں پہنچ پا رہی ہیں اور یہ بھوک کے اتنے بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔

رپورٹ: ہیلے ژَیپے سن /کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس