1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

افريقی اور يورپی سمٹ، مہاجرين کی ملک بدری اہم موضوع

مہاجرين کے بحران کے تناظر ميں يورپی يونين چند شمالی افريقی رياستوں پر ايسے معاہدے کرنے کے ليے زور ڈال رہی ہے، جن کے تحت ہزاروں افراد کو ملک بدر کيا جا سکے گا۔

جنوبی يورپی ملک مالٹا ميں اس ہفتے گيارہ نومبر سے يورپی يونين اور افريقی رياستوں کا ايک سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہيں کہ اٹھائيس رکنی يورپی بلاک افريقہ کے ليے طے شدہ 1.8 بلين يورو کی امداد اور اپنے سياسی و اقتصادی قد و قامت کو بروئے کار لاتے ہوئے چند ممالک پر ايسے معاہدوں کے لیے زور ڈالا سکتا ہے۔

بين الاقوامی ادارہ برائے ہجرت کے مطابق مشرق وسطٰی، شمالی افريقہ اور ديگر چند خطوں کے شورش زدہ ممالک سے اس سال اب تک 773,000 ہزار سے زائد افراد سمندری يا زمينی راستوں سے پناہ کے ليے يورپ پہنچ چکے ہيں۔ يورپی يونين کے اندازوں کے مطابق 2017ء تک يہ تعداد تين ملين تک پہنچ سکتی ہے۔

يورپی يونين خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے تعلق رکھنے والے پناہ گزينوں کی حالت سے واقف ہے اور ان کے ليے يورپ ميں سياسی پناہ کے حوالے سے زيادہ گنجائش رکھتی ہے تاہم اس بلاک کا ماننا ہے کہ افريقہ سے يورپ آنے والے اکثريتی پناہ گزين سياسی پناہ کے حقدار نہيں اور وہ ملازمت کی غرض سے آتے ہيں۔ يورپی يونين ايسے مہاجرين کی جلد از جلد ملک بدری کی خواہاں ہے۔ گو کہ بلاک کی جانب سے يہ بھی تسليم کيا جاتا ہے کہ کچھ افريقی پناہ گزين انسانی حقوق کی خلاف ورزيوں اور جنگ سے بھاگ کر يورپ آ رہے ہيں۔

ماہرين کا ماننا ہے کہ مالی امداد، تجارت اور ديگر مراعات کا لالچ چند مقابلتاً غريب افريقی رياستوں کے ليے کافی ثابت ہو گی اور وہ يورپی يونين کے ساتھ اپنے ملکوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرين کی ملک بدری سے متعلق معاہدوں پر دستخط کر دے گے۔ سياسی تجزيہ کاروں کے مطابق اس ممکنہ پيش رفت کے نتيجے ميں انسانی حقوق کی خلاف ورزياں ہو سکتی ہيں۔

مہاجرين کے بحران کے تناظر ميں يورپ کی بے بسی بھی حقيقی ہے۔ پناہ گزينوں کی تعداد کے سبب سرحدی حکام اور مدد کے مراکز شديد مشکلات کا شکار ہيں۔ کچھ ملکوں کی سرحدوں پر باڑيں لگا دی گئی ہيں اور کہيں نگرانی کافی سخت کر دی گئی ہے۔ صورتحال يہ ہے کہ يورپ ميں ’پاسپورٹ کے بغير سفر‘ اب خطرے ميں پڑتا جا رہا ہے۔ يورپی يونين کی رکن رياستيں فيصلہ سازی ميں کافی سست رہيں اور ايسے ميں تارکين وطن کی مخالف جماعتيں اور  قوتيں زور پکڑنے ميں کامياب ہو گئيں۔ اس بارے ميں بات کرتے ہوئے يورپی سفارت کار پيئر ويمونٹ نے کہا، ’’کافی کچھ کہا جا چکا ہے۔ ليکن کچھ ہو نہيں پايا۔ اب ہميں عملدرآمد کی ضرورت ہے۔‘‘

کئی ملکوں کی جانب سے انفرادی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات اور اس سبب يورپی يونين کو لاحق خطرات کے تناظر ميں اب حکام مہاجرين کی آمد کے سلسلے کے روکنے کے ليے عارضی يا وقتی حل تلاش کرنے کے عمل ميں مصروف ہيں۔