1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

افريقہ ميں نيا قدرتی پارک، رقبہ برطانيہ سے بھی بڑا

ئی برسوں کی بات چيت اور صلاح مشوروں کے بعد دنيا کے سب سے بڑے قدرتی پارک ’کازا‘ کا منصوبہ تيار کر ليا گيا ہے۔ پانچ افريقی ممالک کے درميان اس رياستی معاہدے پردستخط 18 اگست کو انگولا کے دار الحکومت لُوانڈا ميں کيے گئے۔

default

کازا نامی دنيا کا يہ سب سے بڑا قدرتی پارک نو آبادياتی دور کی مصنوعی سرحدوں کے ذريعے منقسم پانچ افريقی ممالک انگولا، بوٹسوانا، نميبيا، زيمبيا اور زمبابوے ميں پھيلا ہوگا۔ اس پارک کا رقبہ برطانيہ سے بھی بڑا ہوگا۔

زمبيا کے پراجيکٹ مينيجر پروفيسر اينڈريو نامبوٹا نے کہا:’’کيا جانور سرحدوں کو جانتے ہيں؟ کيا وہ انہيں تسليم کرتے ہيں؟ يہ سرحديں ايک بڑی تباہی تھی، انسانوں کی ايک سنگين غلطی۔‘‘ اس پارک کا مرکزی حصہ نميبيا ميں ہے جسے ايک زمانے ميں جرمن حکمران فان کاپريوی نے زنجبار کے بدلے انگريزوں سے حاصل کيا تھا۔

دنيا کے سب سے بڑے قدرتی پارک کا يہ منصوبہ ايک طرح سے نوآبادياتی دور، آزادی کی جنگوں اور خانہ جنگيوں کے بعد اس خطے کے ليے ايک نيا آغاز بھی ہے۔ کازا پانچ افريقی ملکوں ميں پھيلے 36 قومی پارکوں اور قدرتی ماحول کی حفاظت کے بہت سے علاقوں پر محيط ہو گا، جہاں شديد غربت کے ساتھ ساتھ حيوانی حيات کی عظيم الشان دولت پائی جاتی ہے۔ اس ميں تقريباً دو لاکھ ہاتھی بھی شامل ہيں۔

اس پارک کے ليے سب سے زيادہ رقم جرمن ترقياتی بينک KfW نے، يعنی جرمن ٹيکس دہند گان نے فراہم کی ہے۔ KfW قدرتی ماحول کے تحفظ کو غربت کے خلاف جنگ بھی سمجھتا ہے۔ قدرتی ماحول کے تحفظ کے تحت سياحت اس خطے ميں ملازمتوں کا ايک بڑا ذريعہ ہے۔ زيمبيا کی مينا موگابے نے بھی اس پر زور ديا: ’’ہم اس پروجيکٹ کے ذريعے مقامی بنيادوں پر تحفظ ماحول ميں مدد دے رہے ہيں اور يہ آگے بڑھنے کی راہ ہے۔‘‘

انگولا کی خانہ جنگی کے متاثرين نميبيا ميں

انگولا کی خانہ جنگی کے متاثرين نميبيا ميں

افريقہ کے قدرتی پارکوں ميں آنے والے سياحوں کی وجہ سے ملازمتيں بھی پيدا ہوتی ہيں۔ اس کے علاوہ يہ خود جرمنی کے اپنے فائدے ميں بھی ہے کيونکہ جو آکسيجن جرمنی ميں ہوا ميں پائی جاتی ہے وہ ايمزون کے جنگلات، کانگو کے ڈيلٹا اور جنوبی افريقہ سے بھی آتی ہے۔

کازا پارک کے علاقے ميں پائے جانے والے ماحولياتی تحفظ کے مقامات کو حياتياتی راہداريوں کے ذريعے آپس ميں ملايا جائے گا۔ پانچ افريقی ممالک کے درميان اب تک 40 کلوميٹر طويل سرحدی باڑھ ہٹائی جا چکی ہے اور يہ سلسلہ جاری ہے۔ مقامی باشندوں اور سياحوں کو يہاں سرحديں عبور کرنے کے ليے صرف ايک مہر لگوانے کی ضرورت ہوگی۔

رپورٹ: کلاؤس اشٹيکر، جوہانس برگ/ شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM