1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اعلیٰ عسکری مذاکرات، جنوبی اور شمالی کوریا متفق

جنوبی کوریا نے ہمسایہ ملک شمالی کوریا کی طرف سے اعلیٰ عسکری مذاکرات کی دعوت قبول کر لی ہے۔ جزیرہ نما کوریا میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری شدید تناؤ میں کمی کے لئے اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

default

جنوبی کوریا نے اگرچہ اعلیٰ عسکری مذاکرات کی دعوت قبول کر لی ہے، تاہم سیول حکومت نے پیونگ یانگ پر زور دیا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں کیے گئے دو خون ریز حملوں کی ذمہ داری قبول کرے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی کوریا کے وزیر دفاع کم یونگ شُن نے اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب کم کوان جن کو مذاکرات کی دعوت دی تھی، جو منظور کر لی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ سیول حکومت نے یہ ضمانت مانگی ہے کہ اس مذاکراتی عمل کے دوران شمالی کوریائی حکام کا رویہ سنجیدہ ہو گا۔

سیول حکام نے بتایا ہے کہ ان مذاکرات کے دوران جزیرہ نما کوریا میں عسکری تناؤ کم کرنے کے علاوہ گزشتہ ماہ ہونے والے دو حملوں پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ خطے میں صورتحال اس وقت بحرانی شکل اختیار کر گئی تھی، جب مئی میں سیول نے پیونگ یانگ پر الزام عائد کیا کہ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ایک بحری جہاز کو تباہ کیا۔ اس جہاز کے تباہ ہونے کے نتیجے میں 46 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد ازاں تناؤ میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب نومبر میں کمیونسٹ کوریا نے جنوبی کوریائی سرحدی جزیرے پر شیلنگ کرکے چار افراد کو ہلاک کر دیا۔

NO FLASH nordkoreanischen Beschuss der südkoreanischen Insel Yonpyong

شمالی کوریا نے گزشتہ برس نومبر میں جنوبی کوریا کے ایک جزیرے پر شیلنگ کی تھی

حالیہ برسوں کے دوران شمالی کوریا کی سفارتی ڈپلومیسی میں ایک بڑا فرق دیکھا جا رہا۔ ماہرین کے بقول اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ پیونگ یانگ حکومت سیول کو مذاکرات کی دعوت دے رہی ہے۔ امریکی حکومت نے اعلیٰ سطحی مذاکرات کو ایک اچھا شگون قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا ہے، ’یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔‘

جزیرہ نما کوریا میں یہ اہم پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب چینی صدر ہو جن تاؤ امریکہ کے دورے پر ہیں۔ مبصرین کے خیال میں باراک اوباما اور ہو جن تاؤ کی ملاقات میں اس معاملہ پر جو بات ہوئی ہے، یہ تازہ پیش رفت اسی کا نتیجہ ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس