1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اعلیٰ جرمن اہلکار افغانستان میں ہلاک

برلن حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ جرمن ترقیاتی بینک کا ایک مشیر افغانستان میں ہلاک ہوگیا ہے۔ یہ اعلیٰ اہلکار جمعہ کے دن شمالی افغانستان میں خشکر گان نامی علاقے میں ایک حملے میں زخمی ہو گیا تھا۔

default

جرمنی کے ترقياتی امداد کے وفاقی وزير ڈِرک نيبل

ہفتے کی صبح جرمن ترقیاتی امداد کے وزیر ڈرک نیبل نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جنگ زدہ افغانستان میں ان کا فوجی مشن کس قدر مشکلات سامنا کر رہا ہے۔ جرمن خبررساں ادارے ڈی پی کے مطابق جرمن ترقیاتی بینک KfW کا مشیر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک کار میں جا رہا تھا کہ شمالی افغانستان میں کچھ مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق نشانہ بنائی جانے والی گاڑی میں چار افراد موجود تھے، جن میں ایک افغان اہلکار کے علاوہ دو دیگر افراد بھی موجود تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں افغان باشندہ معمولی زخمی ہو گیا۔

جرمن ترقیاتی امداد کے وزیرنیبل نے ہلاک ہونے والے جرمن باشندے کے گھرانے سے تعزیت کرتے ہوئے کہا،’ یہ ایک بزدلانہ عمل تھا، جس کا مقصد مقامی آبادی کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہے۔‘ انہوں نے زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ بھی ہمدردی کا اظہار کیا۔

Bundeswehrsoldat in Afghanistan

وقت قریب 4600 جرمن فوجی افغانستان میں تعینات ہیں

ہلاک ہونے والا جرمن باشندہ اس ٹیم کا حصہ تھا، جو قندوز میں ترقیاتی کاموں میں مصروف عمل تھا اور وہ ایک نئے منصوبے کے تحت قندوز میں ایک شاہراہ تعمیر کرنے کا کام کررہا تھا۔ افغانستان میں تعمیر نو اور بحالی کے لئے وہاں تعینات جرمن مشن کئی اہم منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے بارہا کہا ہے کہ افغانستان میں سرگرم طالبان باغیوں کے حملوں کی وجہ سے وہاں تعمیر نو کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان کی نوسالہ جنگ کے دوران اب تک 45 جرمن فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں سے آٹھ اسی سال ہلاک ہوئے۔ جرمن عوام میں افغان مشن کے خلاف سخت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے۔ اس وقت قریب 4600 جرمن فوجی افغانستان میں تعینات ہیں۔ حالیہ عرصے میں کروائے گئےعوامی جائزوں کے مطابق جرمن عوام کی اکثریت افغانستان میں فوجیوں کی تعیناتی کے خلاف ہے۔ جرمن حکام کا ارادہ ہے کہ 2014ء تک سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داریاں افغان حکام کو منتقل کر دی جائیں گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM