1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اعداد و شمار مہاجرین کے بحران کی مشکل کہانی سناتے ہوئے

یورپی یونین نے مشرقی رکن ریاستوں کی جانب سے مہاجرین کو قبول کرنے سے انکار پر نئے قانونی اقدامات کا اعلان کیا ہے، اس سے یورپی یونین کو درپیش مہاجرین کے سنگین بحران اور رکن ریاستوں کے درمیان اختلافات کی عکاسی ہوتی ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے مہاجرین کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا، جس کے مطابق یونان اور اٹلی میں پھنسے ڈیڑھ لاکھ سے زائد مہاجرین کو مختلف یورپی ممالک میں بسایا جانا تھا، تاکہ اٹلی اور یونان اور بوجھ کم کرتے ہوئے یورپی یک جہتی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ تاہم اس یورپی منصوبے پر عمل درآمد اب تک نہیں ہو سکا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرقی یورپی اقوام کی جانب سے مہاجرین کو قبول نہ کرنے سے انکار ہے۔

مہاجرین کا بحران اب تیسرے برس میں داخل ہو چکا ہے، تاہم ترک ساحلوں پر ایک شامی بچے ایلان کردی کی لاش ملنے کے بعد سے جاری اس شدید بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ یورپی حکمتِ عملی کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔

اس حوالے سے اعداد و شمار اس بحران کی شدت اور یورپی ریاستوں میں اختلاف کی کہانی سناتے ہیں۔

سن 2014ء سے اب تک 1.6ملین تارکین وطن یورپی یونین پہنچ چکے ہیں جب کہ یورپ پہنچنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے تارکین وطن کی تعداد ساڑھے 13 ہزار کے قریب ہے۔

Griechenland - Flüchtlignscamp in Chios (picture-alliance/AP Photo/P. Giannakouris)

یونان میں اب بھی ہزاروں مہاجرین پھنسے ہوئے ہیں

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق اس بحران کا کوئی باقاعدہ نکتہء آغاز تو نہیں،  مگر سن 2011 سے تارکین وطن کی یورپ آمد میں بتدریج اضافہ ہوا۔ سن 2014ء میں قریب ایک لاکھ ستر ہزار تارکین وطن اطالوی علاقوں میں پہنچے جب کہ ساڑھے 43 ہزار سے زائد نے یونان کا رخ کیا۔ مگر سن 2015ء میں اس تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق سن 2015ء میں یورپ پہنچنے والے افراد کی تعداد ایک ملین سے زائد تھی، جن میں سے ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد یونان پہنچے۔ اس برس اکتوبر کا مہینہ اس حوالے سے سب سے آگے رہا۔

اس بین الاقوامی تنظیم کے مطابق مہاجرین کے بحران میں شامی تنازعہ نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ عراق اور یمن کے ساتھ ساتھ افغانستان اور متعدد افریقی ممالک سے بھی لاکھوں افراد نے یورپ کا رخ کیا۔

مارچ 2016ء میں بلقان ریاستوں کی جانب سے اپنی اپنی قومیں سرحدیں مہاجرین کے لیے بند کر دی گئیں، جب کہ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والی ڈیل کے نتیجے میں بحیرہء ایجیئن سے تارکین وطن کی یورپی یونین میں آمد میں نمایاں کمی ہوئی۔ تاہم اب بھی شمالی افریقہ سے اٹلی پہنچنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔