1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اعتماد سازی سے متعلق اسلام آباد میں پاک بھارت مذاکرات

پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری اور روایتی ہتھیاروں سے متعلق اعتماد سازی کے اقدامات کے لیے ماہرین کی سطح پر مذاکرات کا آغاز آج پیر کو اسلام آباد میں ہو گیا۔

default

پاکستان اور بھارت کے درمیان اس سے قبل اکتوبر2007ء میں آخری مرتبہ جوہری اور روایتی ہتھیاروں سے متعلق اعتماد سازی کے لیے مذاکرات ہوئے تھے۔ چار سال کے وقفے کے بعد شروع ہونے والے ان مذاکرات میں لائن آف کنٹرول پر تجارت اور قیدیوں کے تبادلے کے علاوہ سفری سہولیات سے متعلق اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔

Konflikt Indien Pakistan

سابق پاکستانی سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے ان مذاکرات کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ فروری 1990ء میں جب معاہدہ لاہور پر دستخط ہوئے تھے تو اس وقت سیکرٹری خارجہ کی سطح پر دونوں ممالک نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان 2004ء میں مختلف شعبوں میں اعتماد سازی کے لیے ورکنگ گروپ بنائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا۔ ’’اس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بعد یہ لازمی تھا کہ آپس میں ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن سے اس خطے میں جوہری حادثے، جوہری پھیلاؤ یا جوہری تصادم کا امکان نہ رہے۔ اسی مقصد کے تحت اس ورکنگ گروپ کا اجلاس اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔‘‘

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے شمشاد احمد خان نے کہا، ’’موجودہ دور میں یہ بہت زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹیجک اور روایتی استحکام قائم ہو۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک فوری طور پر اعتماد سازی کے لیے مزید اقدامات کریں۔‘‘

Border Guards Patrol - Konflikt Indien Pakistan

کنٹرول لائن کے علاقے مین بار بار کشیدگی دیکھنے میں آتی ہے

خیال رہے کہ دونوں ممالک1988ء میں کیے گئے ایک معاہدے کے تحت ہر سال یکم جنوری کو جوہری ہتھیاروں اور تنصیبات کے حوالے سے ایک فہرست کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔ پاکستان موجودہ حالات میں امریکہ کی جانب سے بھارت کے ساتھ سول جوہری معاہدوں پر تحفظات کا اظہار بھی کر چکا ہے۔

شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ بھارت نے موجودہ حالات میں ’ کولڈ سٹارٹ‘ کا نظریہ اپنا رکھا ہے جس کے مطابق بھارت فوری طور پر پاکستان پر کوئی فوجی حملہ کر کے کسی ایک علاقے پر قبضہ کر لے، پاکستان کو نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے سے قبل ہی اپنا وار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت کے لیے امریکہ اور مغرب سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن سے خطے میں امن و سلامتی کا توازن بگڑ رہا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر تجارت، قیدیوں کے تبادلے اور سفری سہولیات کے حوالے سے اعتماد سازی کے اقدامات پر ماضی میں بھی بات ہوتی رہی ہے اور سیکرٹری خارجہ کی سطح کے گزشتہ مذاکرات میں یہی اقدامات ترجیح بھی رہے ہیں۔

شمشاد احمد خان کا کہنا ہے، ’’بھارت کی طرف سے اب تک کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔ لیکن اب دیکھتے ہیں کہ اس اجلاس میں کیا طے پاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تھوڑی بہت چیزوں پر اتفاق ہو جائے، جن کے تحت جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تجارتی سرگرمیوں، جیلوں میں سے ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی اور لوگوں کی آر پار آمد و رفت کے لیے ویزے کی پابندیوں کو نرم کیا جا سکے۔‘‘

یہ پاک بھارت مذاکرات کل منگل کے روز بھی جاری رہیں گے اور ان کی تکمیل پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM