1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اطالوی پوليس مہاجرين پر تشدد کی مرتکب ہوئی، ايمنسٹی انٹرنيشنل

انسانی حقوق سے متعلق ادارے ايمنسٹی انٹرنيشنل نے اپنی ايک تازہ رپورٹ ميں کہا ہے کہ اطالوی پوليس مہاجرين کی انگليوں کے نشانات لينے کے ليے ایسے متنازعہ عوامل کا سہارا لے رہی ہے، جو ممکنہ طور پر تشدد کے زُمرے ميں آ سکتے ہيں۔

DW.COM

اطالوی پوليس نے مہاجرين کے اندراج کے ليے ان کی انگليوں کے نشانات لينے کے مقصد سے جسمانی تشدد اور اليکٹرک شاک يا بجلی کے جھٹکوں جيسے ہتھکنڈوں کا استعمال کيا ہے۔ يہ الزام ايمنسٹی انٹرنيشنل کی جانب سے جمعرات تين نومبر کے روز جاری کردہ ايک رپورٹ ميں لگايا گيا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’اٹلی پر مہاجرين کے خلاف سخت تر اقدامات کرنے کے ليے يورپی يونين کے دباؤ کے نتيجے ميں مہاجرين کے خلاف مبينہ طور پر غير قانونی اقدامات اور بد سلوکی کی جا رہی ہے، جو چند کيسوں ميں تشدد کے زُمرے ميں بھی آ سکتی ہے۔‘

يہ امر  اہم ہے کہ اطالوی پوليس نے ايمنسٹی انٹرنيشنل کی رپورٹ ميں لگائے جانے والے الزامات کی ترديد کی ہے۔

مہاجرين کے اندراج کے ليے يورپی يونين کی مہيا کردہ رقوم سے چلنے والے ’ہاٹ اسپاٹ‘ نظام پر عملدرآمد کے دوران نابالغ بچوں کے ساتھ بھی بد سلوکی کی رپورٹيں موصول ہوئی ہيں۔ ايمنسٹی نے قريب ايک سو ستر افراد کے ساتھ بات چيت کرنے کے بعد يہ انکشاف کيا ہے۔ ’ہاٹ اسپاٹ‘ دراصل اندراج کے مراکز کا نام ہے اور وہاں مہاجرين کی رجسٹريشن اس بات کو يقينی بنانے کے ليے لازمی ہے کہ وہ ديگر کسی رکن ملک ميں سياسی پناہ کے ليے درخواستيں نہ ديں۔ يہ امر اہم ہے کہ کئی مہاجرين اٹلی ميں اپنے انگوٹھوں کے نشان دينے سے گريز کرتے ہيں تاکہ وہ مغربی يورپ کے کسی اور ملک ميں اندراج کرا سکيں اور پھر وہاں سياسی پناہ کی درخواست دے سکيں۔

ايمنسٹی انٹرنيشنل کے اٹلی ميں موجود محقق ماتيو ڈی بيلس کا کہنا ہے کہ مہاجرين کی ديگر يورپی ممالک کی جانب پيش رفت محدود کرنے کے ليے يورپی يونين نے اطالوی حکام کو اس حد تک دباؤ کا نشانہ بنايا ہے کہ وہ اب کچھ ايسے عوامل کے مرتکب بھی ہو رہے ہيں، جو غير قانونی ہو سکتے ہيں۔ بيلس نے مزيد کہا، ’’اس کا نتيجہ يہ ہے کہ اطالوی ساحلوں پر پہنچنے والے پہلے سے خوفزدہ لوگوں کو پھر اندراج کے کڑے مراحل اور پوليس کے ہاتھوں تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘

ايمنسٹی انٹرنيشنل نے اس سلسلے ميں چوبيس رپورٹيں مرتب کی ہيں، جن ميں سولہ کيسز ايسے ہيں جن ميں مہاجرين کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنايا گيا يا انہيں مارا پيٹا گيا۔ چند ايک واقعات ميں مہاجرين نے بجلی کے جھٹکے ديے جانے کا بھی الزام عائد کيا ہے۔ افريقی ملک سوڈان سے تعلق رکھنے والے ايک سولہ سالہ تارک وطن کے بقول اسے اليکٹرک شاک ديے گئے۔ اس نے بتايا، ’’مجھے ايک چھڑی کی مدد سے بجلی کے جھٹکے لگائے گئے۔‘‘ ايک اور سولہ سالہ لڑکے نے بتايا کہ اسے پہلے برہنہ کيا گيا اور پھر اسے اليکٹرک شاک ديے گئے۔