1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اطالوی وزیراعظم ریفرنڈم میں شکست کے بعد مستعفی

اطالوی وزیراعظم ماتیو رینزی نے آئینی اصلاحات کے سوال پر کرائے جانے والے ریفرنڈم میں شکست کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے استعفے کے بعد اٹلی ایک نئے سیاسی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

اطالوی وزیراعظم ماتیو رینزی کی طرف سے آئینی اصلاحات کے سوال پر کرائے جانے والے ریفرنڈم میں عوام کی اکثریت نے اصلاحات نہ کرانے کے حق میں ووٹ دیا۔ اتوار چار دسمبر کو کرائے جانے والے اس ریفرنڈم میں 59.5 فیصد رائے دہندگان نے آئینی اصلاحات کے خلاف ووٹ دیے۔
عوامیت پسند رہنماؤں کی بساط کا اگلا مہرہ اٹلی تو نہیں؟

ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد ماتیو رینزی کا کہنا تھا، ’’مجھے شکست ہوئی ہے، اور جو عہدہ اس کے نتیجے میں ختم ہو رہا ہے، وہ میرا ہے۔‘‘ پیر کو علی الصبح رینزی کی طرف سے مزید کہا گیا، ’’حکومت کی آزمائش کا عمل ختم ہوا، اور میں آج سہ پہر کو کوئیرینال ہِل جاؤں گا اور اپنا استعفیٰ صدر سرگیو ماتیریلا کے حوالے کر دوں گا۔‘‘

ماتیو رینزی نے ریفرنڈم سے قبل کہا تھا کہ اگر عوام نے ان کی مجوزہ آئینی اصلاحات کے خلاف ووٹ دیا تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ یورپی ملک ایک نئے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

Matteo Renzi Archiv (Getty Images/AFP/T.Fabi)

ماتیو رینزی نے ریفرنڈم سے قبل کہا تھا کہ اگر عوام نے ان کی مجوزہ آئینی اصلاحات کے خلاف ووٹ دیا تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے

رینزی حکومت کی طرف سے جو آئینی اصلاحات تجویز کی گئی تھیں ان کے مطابق اٹلی کی سینیٹ کے ممبران کی تعداد 315 سے کم کر کے 100 کر دی جانا تھی اور یوں سینیٹ کے اختیارات کم ہو جاتے۔ رینزی کو امید تھی کہ اس طرح ملک میں قانون سازی کی راہ میں حائل رکاوٹیں کم ہو جاتیں اور فیصلہ سازی میں تعطل کے خاتمے سے ملک ترقی کرتا۔ دوسری طرف رینزی کے مخالفین کا کہنا تھا کہ اگر مجوزہ آئینی اصلاحات منظور کر لی جاتیں تو وزیر اعظم کے اختیارات بہت زیادہ ہو جاتے۔
اٹلی میں آئینی ریفرنڈم، پورا یورپ نتائج کا منتظر

اطالوی وزیراعظم کے استعفے کے اعلان کے بعد یورو زون کی مشترکہ کرنسی یورو کی قدر گزشتہ 20 ماہ کے دوران کی کم ترین سطح تک گِر گئی۔ ڈالر کے مقابلے میں یورو کی قدر 1.4 فیصد کمی کے بعد ایک یورو کی قیمت 1.0505 ڈالرز تک پہنچ گئی۔ تاہم بعد میں کچھ استحکام کے بعد یہ قیمت 1.0555 ہو گئی۔ یورو کی قدر میں یہ کمی مارچ 2015ء کے بعد سے کم ترین سطح تھی جب ایک یورو کی قیمت 1.0457 ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

DW.COM