1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

اطالوی مصور کاراواجو کی چوری شدہ پینٹنگ بازیافت

سولہویں صدی کے باروک اندازِ مصوری کے باکمال مصور کاراواجو کی ایک چوری شدہ پینٹنگ کو جرمنی کی خصوصی پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ افراد کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔

default

بازیافت ہونے والی پینٹنگ

جرمن دارالحکومت برلن سے سولہویں صدی کے شہرہ آفاق مصور مائکل اینجلو میریسی ڈا کاراواجو کی چوری شدہ نایاب پینٹنگ کو جرمنی کی فیڈرل کریمنل پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس مناسبت سے بیس کے قریب خصوصی چھاپے مارنے کے ساتھ ساتھ تفتیش کا عمل کئی ماہ سے جاری تھا۔

جرمن پولیس کو یوکرائن کی پولیس کا تعاون بھی حاصل تھا۔ پولیس نے پینٹنگ کی چوری کے شبے میں ایک روسی اور تین یوکرائن کے باشندوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ کاراواجو کی یہ پینٹنگ جولائی سن 2008ء میں چوری کی گئی تھی۔

جرمنی اور یوکرائن کی پولیس نے ایک بین الاقوامی گروہ کے اراکین کو بھی گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ گروہ منظم جرائم میں ملوث پایا گیا ہے ،جو یوکرائن میں فعال تھا۔ یہ منظم گروہ بنیادی طور پر جمالیاتی فنون کے نوادرات کی چوری کی مبینہ کارروائیوں میں ملوث تھا۔ اب تک اس گروہ کے بیس اراکین پولیس کے ہاتھ چڑھ چکے ہیں۔

Buchcover: Michelangelo da Caravaggio - Maler, Mörder, Mythos

اطالوی مصور کارا واجو

اطالوی مصور کی تصویر کا نام "Taking of Christ," ہے۔ اس کو عام طور پر ’جوڈا کا بوسہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کاراواجو نے اس کو سن 1602ء میں تخلیق کیا تھا۔ یہ پینٹنگ جرمن دارالحکومت کے ’مغربی یورپی اور اوریئنٹل آرٹ عجائب گھر‘ میں رکھی گئی تھی۔ مصوری کے اس شاہکار کی چوری پر عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ چوروں نے اس تصویر کو فریم کے اندر سے نکال کر اٹھایا تھا جو سیکیورٹی اور نگرانی کے عمل میں حیران کن تھا۔

اطالوی مصور کاراواجو بمشکل سینتیس سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے لیکن اُن کے شاہکار اُن کو اب تک زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی تصاویر میں ہلکے اور گہرے رنگوں کا امتزاج انتہائی دلکشی کا باعث ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ کارا واجو کے انداز مصوری کا اثر کئی صدیوں پر محیط تھا اور بعد میں آنے والے شہرہ آفاق مصوروں ریمبراں اور روبن بھی ان کے اثر کے تحت تھے۔

چوری ہونے والی پینٹنگ گزشتہ صدی کے دوران روس سے لائی گئی تھی۔ ایک روسی سفیر نے اوڈیسہ عجائب گھر کو یہ تحفتہً پیش کی تھی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM