1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اطالوی حکام کا عدم تعاون، مہاجرين سڑکوں پر رہائش پذير

مہاجرين کی آمد روکنے کے ليے ان دنوں متعدد يورپی ممالک کی سرحديں بند ہيں تاہم اسی دوران اٹلی ميں پناہ گزينوں کی آمد بدستور جاری ہے۔ نتيجتاً متعدد اطالوی شہروں ميں سرکاری اور غير سرکاری کيمپوں ميں ہجوم بڑھتا جا رہا ہے۔

اطالوی دارالحکومت روم کے ’ٹبوٹينا اسٹيشن‘ کے قريب ’ويا کوپا‘ کے مقام پر ہر رات ايک ہی منظر دکھائی ديتا ہے۔ قريب تين سو مہاجرين ايک ايک کر کے خستہ حال گدے اٹھاتے ہيں اور پھر ايک ديوار کے ساتھ ايک قطار ميں لگا کر اپنی رات گزارنے کا بندوبست کرتے ہيں۔ يوں ديکھتے ہی ديکھتے کھلے آسمان تلے يہ سڑک کسی ہاسٹل کے کمرے کا منظر پيش کرنے لگتی ہے۔ اس غير سرکاری مہاجر کيمپ کا نام ’باؤ باب‘ کيمپ ہے۔ اريٹريا، ايتھوپيا اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے يہ پناہ گزين ديگر سرکاری کيمپوں کو ترک کر کے اس مقام کا رخ کرتے ہيں۔ پھر ايک، دو راتيں يہاں گزارنے کے بعد يہ سب شمال کی طرف بڑھتے ہيں۔ بہت سے مہاجرين تو اس بات سے قطعی طور پر ناواقف ہوتے ہيں کہ کئی يورپی مملک نے اپنی سرحديں بند کر رکھی ہيں اور ان کے اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہيں۔

گزشتہ برس نومبر تک اس مقام پر ايک باقاعدہ مہاجر کيمپ ہوا کرتا تھا جسے بعدازاں ختم کر ديا گيا۔ رضاکار کسی متبادل مقام کے حصول کے ليے شہری انتظاميہ کے ساتھ رابطے ميں ہيں تاہم تاحال اس پر کوئی پيش رفت نہيں ہو سکی ہے۔ اس بارے ميں ڈوئچے ويلے سے خصوصی طور پر بات کرتے ہوئے بحيرہء روم کے سب سے بڑے جزيرے سسلی کے ’آؤگسٹا‘ نامی ايک شہر سے تعلق رکھنے والی رضاکار ماريا گرازيا پٹانيا نے بتايا کہ چونکہ يہ ايک غير سرکاری مقام ہے، وہاں کی صورتحال يوميہ بنيادوں پر تبديل ہوتی ہے۔ انہوں نے بتايا کہ ’باؤ باب‘ کيمپ مہاجرين کے ليے در اصل ايک ٹرانزٹ مقام کی حيثيت رکھتا ہے۔

ماريا نے ڈی ڈبليو کو بتايا کہ کھلے آسمان تلے رہنے کی وجہ سے مہاجرين کو متعدد خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے بتايا، ’’جہاں تک ميرے تجربے کی بات ہے، تو ميں نے يہی ديکھا کہ حکام تعاون نہيں کرتے۔ اکثر مقامی پوليس اس کيمپ پر چھاپا مارتی ہے اور وہاں موجود پناہ گزينوں کی شناخت کی جاتی ہے۔ يہاں يہ بات اہم ہے کہ يہ مہاجرين پوليس کے تحويل نہيں چاہتے کيونکہ انہيں اپنے انگوٹھوں کے نشانات دينے پڑتے ہيں اور يہ وہ اس ليے نہيں چاہتے کيونکہ اس کا مطلب يہ ہو گا کہ انہيں سياسی پناہ کی درخواست اٹلی ميں ہی جمع کرانی پڑے گی۔ اکثريتی پناہ گزين شمال کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں اور ديگر يورپی ملکوں ميں پناہ کے متلاشی ہيں، جہاں ان کے ديگر اہل خانہ موجود ہوں۔‘‘

ماريا نے اس وقت ’باؤ باب‘ کيمپ ميں موجود اپنے چند ساتھيوں کے ذرائع سے بتايا کہ گزشتہ روز بھی پوليس نے کيمپ پر چھاپا مارا اور مہاجرين کو جبری طور پر لے جايا گيا اور پھر کچھ گھنٹے تحويل ميں رکھنے کے بعد انہيں سہ پہر کے وقت رہا کر ديا گيا۔ رضاکاروں نے اس پيش رفت کی تصاوير اپنے ٹوئٹر اور فيس بُک اکاونٹس پر جاری کی ہيں۔

روم ميں ’باؤ باب ايکسپيريئنس‘ نامی غير سرکاری تنظيم سے وابستہ ايک رضاکار آندريا کوسٹا کے مطابق موسم بہار ميں جب کشتيوں پر مہاجرين کی آمد کا سلسلہ اس سال دوبارہ شروع ہوا، تو روم اور ديگر شہروں ميں غير سرکاری کيمپ کھڑے ہوتے نظر آئے۔ انہوں نے بتايا، ’’ہم اس بارے ميں فکر مند ہيں کہ کہيں کومو، ميلان، روم اور وينٹيميگليا ميں يونانی شہر اڈومينی کی طرز پر چھوٹے چھوٹے خستہ حال کيمپ نہ نمودار ہو جائيں۔‘‘

يورپی يونين کے دباؤ کے نتيجے ميں اطالوی حکام اس حوالے سے کافی سرگرم ہيں کہ بحيرہء روم سے بچائے جانے والے تمام مہاجرين کی شناخت کا عمل اٹلی ميں ہی مکمل کر ليا جائے تاکہ يہ پناہ گزين ديگر يورپی ممالک ميں پناہ کی درخواستيں نہ دے سکيں۔ اس کے بدلے ميں چند مہاجرين کو قانونی طريقے سے ديگر ممالک منتقل کرنے کی بھی کوشش کی گئی تاہم يہ کوشش زيادہ کارآمد ثابت نہ ہو سکی۔ اس کا نتيجہ يہ نکلا کے مہاجرين کے ايک بہت بڑی تعداد اٹلی ميں جمع ہوتی جا رہی ہے۔ سن 2014 ميں اس وقت اٹلی کے مہاجر کيموں ميں لگ بھگ چھياسٹھ ہزار پناہ گزين قيام پذير تھے۔ پھر گزشتہ برس اس وقت يہ تعداد 103,000 تھی جبکہ سال رواں ميں اس وقت 144,000 سے زائد مہاجرين اطالوی مہاجر کيمپوں ميں وقت گزار رہے ہيں۔