1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

اطالوی جھیل پر امریکی آرٹسٹ کا بنایا ’تیرتا راستہ‘ بند

ایک شمالی اطالوی جھیل پر امریکی آرٹسٹ کرسٹو کے تخلیق کردہ نارنجی رنگ کے’تیرتے راستے‘ کو آج بند کر دیا گیا ہے۔ اس فن پارے نے بارہ لاکھ سے زائد سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔

جون کے مہینے سے ’ اِیسے او‘ نامی جھیل میں عوام کی تفریح کے لیے کھولا گیا یہ تیرتا ہوا پُل نما راستہ سیاحوں میں بے انتہا مقبول ہوا۔ اس فن پارے کو دو لاکھ تیرتے کیوبز کی مدد سے بنایا گیا تھا۔ تیز نارنجی رنگ کے کپڑے سے ڈھکا اور ساحل پر واقع مونٹے ایسولا اور سان پاؤلو کے چھوٹے جزیروں سے ملانے والا یہ راستہ گہرے رنگ کے پانی میں بہت نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

بلغاریہ میں پیدا ہونے والے امریکی آرٹسٹ کرسٹو، جو ایک بار برلن کی پارلیمنٹ کی عمارت کو بھی کپڑے سے ڈھک چکے ہیں، کا کہنا تھا، ’’دنیا بھر سے لاکھوں لوگ صرف اس راستے کو دیکھنے اور اس پر چلنے کے لیے یہاں آئے۔‘‘

Christo The Floating Piers auf dem Lago d'Iseo

امریکی مصور کرسٹو

دنیا بھر سے آئے سیاحوں میں سے بیشتر ایسے بھی تھے جو ننگے پاؤں اس راستے پر چل کر پانی پر چلنے کے احساس کو جینا چاہتے تھے۔ مقامی حکام کے اندازوں کے مطابق کرسٹو کی اس تخلیق کو دیکھنے روزانہ اوسطاﹰ 72،000 افراد آئے جب کہ اس کی نمائش کے کل سولہ دنوں کے دوران مجموعی طور پر 1.2 ملین سیاح اس جھیل کی سیر کو آئے۔ تاہم مقامی پولیس کا تخمینہ ہے کہ ایک لاکھ افراد یومیہ بنیادوں پر اس فن پارے کو دیکھنے کے لیے آئے۔

جھیل کے قریب ترین واقع قصبے برَیشا سے چلنے والی بسوں اور ٹرینوں کو سیاحوں کے رش کو مناسب طور پر کنٹرول کرنے کے لیے کئی بار معطل کرنا پڑا۔ اس منصوبے کے منتظمین نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کرسٹو نے اپنی ڈرائنگز اور ماڈلز کی فروخت کے ذریعے اس منصوبے کو مکمل کرنے کا خرچہ خود اٹھایا تھا۔ مونٹے ایسولا کے میئر فیوریلو ٹُرلا نے مقامی معیشت کے فروغ کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا،’’اس منصوبے سے ہمارے علاقے میں سیاحت کی صنعت پر دیر پا ثرات مرتب ہوں گے۔‘‘

گزشتہ ماہ اطالوی صارفین کے ایک گروپ نے سیاحوں کے جانے کے بعد یہاں کی صفائی اور سیاحوں کی سکیورٹی سے پر اٹھنے والے بھاری اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ آیا حکام کو اس قسم کے منصوبے کی اجازت بھی دی جانی چاہئے تھی یا نہیں۔

اگرچہ کرسٹو نے وعدہ کیا تھا کہ اس ’تیرتے راستے‘ کو سیاحوں کے لیے ہر روز چوبیس گھنٹے کھلا رکھا جائے گا لیکن مقامی حکام نے جھیل کی صفائی کی غرض سے اسے رات کے اوقات میں کچھ گھنٹوں کے لیے بند کیے رکھا تھا۔

کرسٹو کو سن 1985 میں پہلی بار اس وقت شہرت حاصل ہوئی تھی جب انہوں نے اپنی مرحومہ بیوی جین کلاڈ کے ساتھ مل کر پیرس میں دریائے سین کے مشہور زمانہ پل ’پونیف‘ کو کپڑے میں لپیٹ دیا تھا۔ اطالوی جھیل پر تیرتے ہوئے راستے کے منظر کی نمائش آج پیر کے روز سے ختم کی جا رہی ہے۔