1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اطالوی بحریہ نے سمندر میں بھٹکتے مزید چھ ہزار مہاجر بچا لیے

اطالوی بحریہ نے گزشتہ تین دنوں میں بحیرہ روم میں یورپ کی طرف غیر قانونی سفر کے دوران سمندر میں بھٹکتے مزید چھ ہزار مہاجرین کو بچا لیا۔ اس دوران امدادی عملے کو سمندر میں تیرتی دو مہاجرین کی لاشیں بھی ملیں۔

Italien Marine-Schiff Vega mit 600 Flüchtlingen

اطالوی بحریہ کا جہاز ’ویگا‘ سمندر سے بچائے گئے چھ سو مہاجرین کو لے کر بندرگاہ کی طرف سفر کرتا ہوا

روم سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اٹلی کی بحری فوج کے جہازوں نے مختلف امدادی تنظیموں کے ساتھ مل کر جمعرات 28 جولائی سے لے کر آج اتوار 31 جولائی کی صبح تک بحیرہ روم کے پانیوں سے مختلف کشتیوں میں سوار مجموعی طور پر ایسے مزید چھ ہزار مہاجرین اور تارکین وطن کو بچا لیا، جو یورپ پہنچنے کے ارادے سے اس سفر پر نکلے تھے۔

اطالوی بحریہ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں اتوار اکتیس جولائی کے روز بتایا کہ اس کے بحری جہاز لیبیا کے ساحلوں سے دور بحیرہ روم میں گشت کر رہے تھے کہ انہیں مختلف اوقات میں مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ربڑ کی بنی چار ایسی کشتیاں ملیں، جو عام طور پر ماہی گیری کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

ان کشتیوں پر تارکین وطن کے ہجوم کی صورت میں اتنا بوجھ تھا اور وہ اتنی غیر محفوط تھیں کہ کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ’ویگا‘ نامی ایک بحری جہاز کی طرف سے کیے گئے آپریشن کے دوران پانچ افراد کو سمندر سے نکال لیا گیا۔

ان میں سے دو کی موت واقع ہو چکی تھی جبکہ باقی تین کی زندگیاں طبی کارکنوں نے اپنی پوری کوششیں کرتے ہوئے بچا لیں۔

Mittelmeer Flüchtlinge Rettungsaktion

یورپ پہنچنے کی کوشش میں اس سال کے صرف پہلے سات ماہ کے دوران تین ہزار مہاجرین سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس سال 28 جولائی تک سمندری راستوں سے 89,217 تارکین وطن اٹلی پہنچ چکے تھے، جن میں اکثریت زیریں صحارا کے افریقی ممالک کے باشندوں کی تھی۔

گزشتہ برس جنوری سے جولائی تک انہی سمندری راستوں سے اٹلی پہنچنے والے مہاجرین اور غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد93,000 رہی تھی۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق اس سال کے دوران اب تک یورپ پہنچنے کی کوشش میں غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے سفر اور مختلف حادثات کے نتیجے میں سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو جانے والے تارکین وطن کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے اسی عرصے میں سمندر میں ڈوب جانے والے مہاجرین کی تعداد کے مقابلے میں کم از کم بھی 50 فیصد زیادہ ہے۔

DW.COM