1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اصولی فیصلہ ہو گیا، کم جونگ ان شمالی کوریا کے نئے سربراہ

اطلاعات ہیں کہ کم جونگ اِل کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کم جونگ ان اپنے انکل اور فوجی قیادت کے ساتھ مل کر نئی حکومت بنائیں گے۔ شراکت اقتدار کے اس معاہدے کے بعد ملکی فوج نے کم جونگ ان کے لیے اپنی وفا داری کا اظہار کر دیا ہے۔

default

کم جونگ ان

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پیونگ یانگ اور بیجنگ حکومتوں کے قریبی اور معتبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کم جونگ اِل کی موت کے بعد ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کم جونگ ان کو ملک کا نیا سربراہ بنانے کے حوالے سے اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

ان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہےکہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں میں جتی ہوئی شمالی کوریا کی فوج نے کم جونگ ان کی قیادت کو قبول کرتے ہوئے اپنی بھرپور وفاداری کی یقین دہانی کروا دی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد وجود میں آنے والے کمیونسٹ ملک شمالی کوریا کے پہلے رہنما کم ال سُنگ کے پوتے اور ہفتہ کے دن وفات پا جانے والےکم جونگ اِل کے بیٹے کم جونگ ان کے بارے میں پہلے ہی قیاس آرائیاں کی جاتی تھیں کہ وہ شمالی کوریا کے نئے رہنما بنائے جائیں گے۔

Nordkorea Nord Korea 1966 Kim Il Sung Flash-Galerie

کمیونسٹ ملک شمالی کوریا کے پہلے رہنما کم ال سُنگ

ذرائع کے مطابق کم جونگ اِل کی وفات کے بعد اس کمیونسٹ ملک میں فوجی انقلاب کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ روئٹرز کے مطابق جن ذرائع نے اسے یہ نئی معلومات فراہم کی ہیں، وہ پہلے بھی شمالی کوریا کے بارے میں ایسی اطلاعات دے چکے ہیں، جو بالکل درست ثابت ہوئی تھیں۔ انہی ذرائع نے بتایا ہے کہ شمالی کوریا کی نئی حکومت میں کم جونگ ان کے علاوہ ان کے پھوپھا جانگ سونگ تھیک (Jang Song-thaek) اور متعدد فوجی جنرل بھی شامل ہوں گے۔

کم جونگ اِل کی وفات کے بعد ان کے برادار نسبتی پینسٹھ سالہ جانگ سونگ تھیک شمالی کوریا میں انتہائی طاقتور شخصیت سمجھے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کم جونگ اِل کی بہن اور جانگ سونگ تھیک کی اہلیہ Kim Kyong-hui بھی ایک اہم سیاسی شخصیت بن چکی ہیں۔ ذرائع کے بقول اس مخصوص صورتحال میں شمالی کوریا میں سیاسی بحران کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔

شمالی کوریائی امور کے ماہر اور امریکی تھنک ٹینک CSIS کے صدر رالف کوسا کہتے ہیں کہ شمالی کوریا میں حکمران طبقہ متحد رہے گا کیونکہ یہ اس کے مفاد میں ہے، 'اس طبقے کے متحد رہنے میں ہی ان کے ذاتی مفادات پنہاں ہیں'۔ انہوں نے بھی کم جونگ اِل کی وفات کے بعد وہاں کسی سیاسی بحران کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔

Nordkorea Nord Korea 1980 Kim Jong Il Flash-Galerie

کم جونگ اِل نے اپنے والد کی وفات کے بعد 1994 میں اقتدار سنبھالا تھا

ذرائع کے بقول شمالی کوریا کی طرف سے پیر کو کیے گئے ایک میزائل تجربے کا مقصد امریکہ کو خبردار کرنا تھا کہ کم جونگ اِل کی موت کے بعد پیونگ یانگ حکومت کو کمزور نہ سمجھا جائے، 'اس میزائل تجربے سے انہوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ انہیں کمزور ہر گز نہ سمجھا جائے'۔

ان ذرائع نے مزید کہا کہ شمالی کوریا مستقبل قریب میں جوہری ہتھیاروں کے کسی تجربےکا کوئی ارداہ نہیں رکھتا، 'لیکن امریکہ یا جنوبی کوریا نے اسے اشتعال دلایا تو وہ ایسا کر بھی سکتا ہے'۔ شمالی کوریاکے مطابق اس کی فوج نے 2006ء اور 2009ء میں جوہری تجربے کیے تھے۔ شمالی کوریا کا جوہر ی پروگرام جنوبی کوریا اور اس کے اتحادی ملک امریکہ کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس