1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں: بحران سے استحکام کی جانب

دنیا بھر میں خوراک کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک ایکشن ویک کو پلان کیا گیا تھا۔ آج سترہ اکتوبر اس ہفتے کا آخری دن دنیا میں غربت کے خاتمے کے عہد سے وابستہ ہے۔ خوراک کا عالمی دن سولہ اکتوبر کو ہر سال منایا جاتا ہے۔

default

خوراک کے عالمی دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) اور ورلڈ فوڈ سکیورٹی (CFS) کے درمیان جاری میٹنگ میں امکاناً ایسے رضاکارانہ رہنما اصولوں پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے، جن کا براہ راست تعلق امیر ملکوں کی جانب سے ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں زرعی زمین کی خرید سے ہے۔ اس متنازعہ سرمایہ کاری پر آج پیر کے روز بھی یورپی ملک اٹلی کے دارالحکومت روم میں FAO کے صدر دفتر میں موجود وفود نے فوکس کیا۔

Welternährungsgipfel in Rom

خوراک کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ کانفرنس کے شرکاء

غیر سرکاری تنظیمیں خاص طور پر امیر ملکوں کی پسماندہ ملکوں میں زمین کی خرید کے عمل کو زمین پر قبضے یا لینڈ گریبنگ (Land grabbing) سے تعبیر کر رہی ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق اگر یہ عمل بڑھتا گیا تو بے شمار غریب ملکوں میں چھوٹے زمین داروں پر عرصہٴ حیات تنگ ہو جائے گا۔ ان تنظیموں کے خیال میں امیر ملکوں کے اس عمل سے اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ یقینی ہے۔

لینڈ گریبنگ (Land grabbing) کے خلاف مہم میں شریک ایک بین الاقوامی گروپ Via Campesina کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر زرعی اقتصادیات سے وابستہ کارپوریٹ سیکٹر دانستہ طور پر کسانوں اور کنزیومرز کو غربت کی دلدل کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ویا کمپیسینا (Via Campesina) نے کارپوریٹ سیکٹر کے اس رویے کو بے ہودگی اور دیدہ دلیری سے تعبیر کیا ہے۔

دنیا بھر میں اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم آکسفیم نے ورلڈ فوڈ سکیورٹی ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زرعی اجناس پر رعایتوں کو ختم کر کے اسے بائیو ایندھن میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں میں اجناس کی قیمتوں پر نظم و ضبط اور غریب ملکوں کے لیے خوراک کو ذخیرہ کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرے۔ آکسفیم نے عالمی اداروں کو زرعی مساوات اور زرعی سرمایہ کاری کو قاعدے قانون کے تحت چلانے کو بھی وقت کی ضرورت قرار دیا۔

A young Iraqi porter carrying a wheat sack in Shorja market, Baghdad Tuesday, July 3. 2001. State-run dailies said Tuesday the decision to indefinitely postpone a Security Council vote on a U.S.-backed British plan to overhaul sanctions against Iraq was a victory for Baghdad. Iraq said it is ready to resume oil exports if the oil-for-food deal is renewed under previous conditions. (AP Photo/Jassim Mohammed).

اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے بھوک بڑھ رہی ہے

آکسفیم کی چیف ایگزیکٹو باربرا اسٹاکنگ نے ورلڈ فوڈ سکیورٹی (CFS) کے اغراض و مقاصد کے تناظر میں اس تنظیم سے بہتری کی توقع کی ہے۔ اسٹاکنگ کے مطابق نئی کوششوں سے کم از کم بھوک میں کمی لانا ممکن ہے اور انہوں نے اس کی مثال برازیل اور ویتنام میں تبدیل ہوتی صورت حال سے دی ہے۔ اسٹاکنگ کے مطابق ترقی پذیر اور غریب ملکوں کی سیاسی قیادت میں غربت و بھوک کی صورت حال بہتر کرنے کی مناسبت سے خواہش میں کمی اور مناسب فیصلے نہ کرنے کو بھی اہم قرار دیا ہے۔

دس اکتوبر سے شروع ہونے والے ایکشن ویک کے دوران چار دوسرے عالمی ایام کو بھی خوراک کے عالمی دن سے نتھی کیا گیا تھا۔ ان میں بارہ اکتوبر کو مقامی باشندوں کا دن منایا گیا۔ پندرہ اکتوبر کو دیہی خواتین کا عالمی دن تھا۔ سولہ اکتوبر خوراک کا عالمی دن اور سترہ اکتوبر دنیا میں غربت ختم کرنے کا بین الاقوامی دن ہے۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس