1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اشیائے خوردونوش کی قیمتیں تاریخی سطح پر پہنچ گئیں

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت فاؤ نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ سے غذائی اشیا کی عالمی قیمیتں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں، جن میں آئندہ کئی مہینوں تک اضافے کا عمل جاری رہے گا۔

default

فاؤ نے خبردار کیا ہے کہ بحران کی شکار ریاستیں اس صورت حال سے سب زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔ اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ہی تیونس میں معزول صدر زین العابدین بن علی اور مصر میں صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاج کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

فاؤ نے اپنے تازہ سروے میں کہا ہے کہ خوراک کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے اس کا انڈیکس گزشتہ ماہ 231 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جو اب تک ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح ہے۔ اس انڈیکس کے ذریعے قیمتوں کی نگرانی 1990ء میں شروع کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے اس ادارے میں ماہر اقتصادیات اور اجناس Abdolreza Abbassian نے ایک بیان میں کہا، ’نئے اعدادوشمار سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ عالمی سطح پر خوراک کی قیمتیں بڑھنے کا رجحان نیچے نہیں آ رہا۔ قیمتوں میں اضافے کا یہ عمل آئندہ کئی مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا، ’کسی بھی ملک میں بحران کی سی کیفیت پیدا کرنے میں بہت سے چیزیں کارفرما ہو سکتی ہیں اور خوراک ایسے ہی محرکات میں سے ایک ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2007-08ء میں ہنگامہ آرائیوں کے بعد متعدد ممالک غذائی اشیا کی قیمتوں پر قابو پانے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اس اہلکار نے ایسی ریاستوں کے بارے میں کہا، ’انہوں نے ماضی سے سبق سیکھا ہے۔‘

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ وقت کوئی آسان نہیں ہے اور قیمتیں نیچے آنے کی کوئی اُمید نہیں، کم از کم موسم گرما تک تو نہیں۔

FAO Logo

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کا دفتر روم میں ہے

فاؤ کی ماہانہ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے انڈیکس میں گزشتہ برس دسمبر کے مقابلے میں تین اعشاریہ چار فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ زیادہ اضافہ، دودھ، دہی، اجناس اور کھانے کے تیل کی قیمتوں میں ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ چین، بھارت، انڈونیشیا اور روس میں دیکھا گیا ہے۔

دوسری جانب عالمی امدادی ادارے اوکسفیم کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اس ادارے نے ایک بیان میں کہا، ’ترقی پذیر ملکوں کے غریب عوام اپنی آمدنی کا 50 سے 80 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے ان کے لیے پیٹ بھرنا مشکل ہو جائے گا۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس