1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اشٹائن مائر کا دورہ واشنگٹن

وفاقی جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر آج واشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔ امریکہ میں نئی حکومت کے برسر اقتدارآنے کے بعد کسی یورپی وزیر خارجہ کا واشنگٹن کا یہ پہلا دورہ ہے۔

default

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر

جرمن وزیر خارجہ کے اس دورے کا مرکزی نقطہ اپنی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن کے ساتھ ملاقات ہے۔

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹراشٹائن مائرنئی امریکی خارجہ پالیسی کے بنیادی نکات کے بارے میں آشنائی حاصل کرنے کے لئے کسی تاخیر سے کام نہیں لینا چاہتے۔ اگرچہ آئندہ ہفتے کے روز یعنی 7 فروری کوامریکہ کے نو منتخب نائب صدر Joe Biden جرمن شہرمیونخ میں منعقد ہونے والی سلامتی کانفرنس میں حصہ لیں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس موقع پرامریکی نائب صدرواشنگٹن کی نئی خارجہ پالیسی کے بارے میں تقریرکریں گے۔

تاہم اس سے پہلے ہی جرمن وزیر خارجہ اپنی امریکی ہم منصب کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات کے دوران یورپ اور امریکہ کے مابین اہم ترین بین الاقوامی پالیسیوں پراتفاق چاہتے ہیں۔ اس امر کی طرف نشاندہی برلن کے دفتر خارجہ کے ترجمان Jens Plötner نے کی۔

Obama in Berlin Steinmeier

صدارتی مہم کے دوران اوباما کے دورہ جرمنی کے موقع کی ایک تصویر جس میں اشٹائن مائر اور اوباما ہمراہ ہیں

ماحولیاتی تبدیلیوں، تحفظ توانائی، عراق کی صورت حال اورعالمی معیشی بحران سے لے کرآئندہ اپریل کے ماہ میں منعقد ہونے والا مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا سربراہی اجلاس، ان موضوعات پر مذاکرات متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ اشٹائن مائر کے ساتھ امریکہ روانہ ہونے والے کابینہ اراکین کے وفد نے اس طرف بھی نشاندہی کی کہ جرمن وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کے سا تھ مذاکرات میں روس امریکی تعلقات میں پائے جانے والے تناؤ کے خاتمے کی کوشش بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ تخفیفِ اسلحہ کے شعبے میں فوری اقدامات کے لئے بھی زور دیں گے۔ ان موضوعات پر نئی امریکی حکومت کے ساتھ کھل بات چیت کرنا اشٹائن مائر کے لئے دشوار امر نہیں ہے۔

’’ان موضوعات پر امریکہ کی نئی حکومت کے ساتھ مذاکرات بغیر کسی مشکل کے کئے جا سکتے ہیں۔ اس بات کا احساس مجھے باراک اوباما کے پہلے دورہ برلن کے موقع پر ہی ہوگیا تھا اوریہی تاثر مجھے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت سے ملا ہے۔‘‘

تاہم جرمن وزیر خارجہ کے خیال میں جرمن میڈیا میں اوباما کے بارے میں رپوٹنگ کافی حد تک یک طرفہ ہوئی۔

’’ہمارے یہاں اوباما کے بارے میں ہونے والے تمام بحث و مباحثہ کا مرکزی موضوع ایک ہی تھا۔ یہ کہ کیا اوباما افغانستان میں اپنے مزید فوجی بھجنا چاہتے ہیں؟ میں کہتا ہوں ہمیں اس بحث میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہمیں زیادہ توجہ جرمن امریکی تعلقات کے فروغ کے نئے مواقعوں پر مرکوز کرنی چائے۔‘‘

Deutschland Finanzkrise Rettungspaket Angela Merkel und Frank-Walter Steinmeier

اشٹائن مائر، جرمن چانسلر اینگلا میرکل کے ہمراہ

اشٹائن مائر کے اس اچانک امریکی دورے کے ایک اہم مقصد کا تعلق جرمنی کی داخلہ سیاست سے بھی ہے۔ جرمن وزیر خارجہ واشنگٹن کے ساتھ بہترسے بہترتعلقات کا پل تعمیرکررہے ہیں، جبکہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے اندر اس بارے میں بہت زیادہ والہانہ پن نظر نہیں آرہا۔ چانسلر سے پہلے ہی وزیرخارجہ کے واشنگٹن پہنچ جانے کا ایک واضح مقصد یہ بھی ہے کہ سوشل ڈیموکریٹ لیڈراوراس سال جرمنی میں پارلیمانی انتخابات میں چانسلر کے عہدے کے امیدواراشٹائن مائرامریکی حکام کے ساتھ اپنی ’پی۔ آر‘ بہتربنانا چاہتے ہیں۔ اشٹائن مائر کی ایک عرصے سے، نومنتخب ڈیموکریٹ امریکی صدراوباما کے ساتھ قربت میں اضافے کی کوششیں واضح نظرآ رہی تھیں۔ چاہے اوباما کے نام ایک کھلے خط کی شکل میں یا گوانتانامو کے قیدیوں کو جرمنی لانے کی پیشکش کے طورپر۔

آیا اشٹائن مائراپنے اس امریکی دورے کے دوران امریکی صدراوباما سے ملاقات کریں گے یا نہیں؟۔ یہ امر ابھی واضح نہیں ہے۔ تاہم ان دونوں کی ملاقات اگر اتفاقا بھی ہوئی تواسے جرمنی میں سوشل ڈیمو کریٹ اشٹائن مائر کی امریکی قیادت کے ساتھ قرابت داری بنانے کی کوششوں کے ضمن میں ہی دیکھا جائے گا۔