1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اشتعال انگیز لیف لیٹ کی اشاعت پر امریکی جنرل کی معذرت

امریکی فوج کی جانب سے ایک اشتعال انگیز لیف لیٹ جاری کرنے پر معذرت کی گئی ہے۔ اس پرچے کی اشاعت کے بعد افغان طالبان نے بگرام فوجی اڈے پر ایک خودکش حملہ بھی کیا ہے۔

افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر میجر جنرل جیمز لِنڈر نے ایک اشتعال انگیز لیف لیٹ شائع کرنے پر معذرت پیش کی ہے۔ امریکی جنرل نے اس تناظر میں کہا کہ اِس پرچے پر ڈیزائن غلطی سے ایسا بن گیا، جو مذہب اسلام اور مسلمانوں کے منافی ہے اور یہ اشتعال کا سبب بنا۔ اس لیف لیٹ پر افغان طالبان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

امریکا افغانستان میں اپنے نو فوجی اڈے برقرار رکھنا چاہتا ہے

افغانستان: پروان کا ضلع شنواری طالبان کے ہدف پر

امریکا نے بگرام جیل بند کر دی

افغانستان میں خودکش حملے میں چھ نیٹو فوجی ہلاک

جنرل نے اس غلط ڈیزائن کے حامل پرچے کی اشاعت پر معذرت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا احترام کرتے ہیں۔ اُدھر افغان صوبے پروان کے گورنر محمد حاصم نے اس اشتعال انگیز پرچے کی اشاعت کو ناقابلِ معافی قرار دیا ہے۔ گورنر نے اپنے بیان میں کہا کہ جو افراد اس اشتعال انگیزی اور مذہب کی توہین میں ملوث ہیں، اُن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بگرام کا فوجی اڈہ بھی پروان صوبے میں واقع ہے۔

اسی طرح طالبان کی جانب سے کہا گیا کہ یہ لیف لیٹ امریکا کی اسلام سے نفرت کا اظہار ہے۔اس لیف لیٹ پر طالبان کے مذمتی بیان میں کہا گیا کہ اس توہین آمیز پرچے نے ثابت کر دیا ہے کہ اُن کی جنگ اسلام اور اور اس کے منکرین کے درمیان ہے۔

Afghanistan Kabul - NATO Soldaten erreichen Ort eines Selbstmordattentats (Reuters/M. Ismail)

بگرام فوجی اڈے پر خودکش حملے کے بعد سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا

کل بدھ چھ ستمبر کی سہ پہر میں ایک خودکش حملہ ایک موٹر سائیکل کے ذریعے کیا گیا اور اس میں بگرام فوجی اڈے کے گیٹ نمبر تین کو نشانہ بنایا گیا۔ افغان حکام کے مطابق امکاناً یہ حملہ لیف لیٹ کی اشاعت کے انتقام کا نتیجہ ہے اور اس حملے میں کم از کم چھ افراد کے زخمی ہونے کا بتایا گیا ہے۔

حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق خودکش حملے میں بیس فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حملے کے وسیع منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات