1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور پاکستان کی ترقی میں مدد کریں‘

پاکستانی وزیراعظم نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی حکومت پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر ہر ممکن معاونت مہیا کرے گی۔ اس کانفرنس میں چھ سو غیرملکی سرمایہ کار شریک ہیں۔

بدھ کو اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی’’پاکستان سرمایہ کاری کانفرنس‘‘ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور پاکستان کی تعمیر وترقی میں مدد کریں۔

اس کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ انتیس سے زائد ملکوں کے دو سو سے زائد سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات شریک ہیں، جن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عالمی ادارے پاکستان کی معاشی بحالی کے معترف ہیں جبکہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حکومتی پالیسیوں پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت شفافیت کے ساتھ توانائی کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے اور اس نے گزشتہ اڑھائی سال میں اہم اہداف حاصل کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک چار نکاتی منصوبے پر عمل پیرا ہے جس میں انتہاپسندی کا خاتمہ، اقتصادی ترقی، توانائی کی سستی اور بلا تعطل فراہمی، تعلیم اور صحت تک لوگوں کی رسائی ممکن بنانا شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملکی معیشت کی سمت درست کرنے کے لیے ان کی حکومت کو بعض مشکل فیصلے بھی کرنا پڑے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا۔ ’’ہمارا جمہوری اور اقتصادی سفر دھچکوں سے خالی نہیں تھا لیکن پاکستانی قوم نے ایک مرتبہ اور ہمیشہ کے لئے فیصلہ کر لیا کہ ان کا مستقبل ایک آزاد اور جمہوری ملک ہے۔‘‘

انہوں نے چھیالیس ارب ڈالر کے پاک چین اقتصادی راہداری کے زیر تعمیر منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس کے تحت پچیس صنعتی زون بنیں گے اور ملازمتوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔

اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دوسری مرتبہ سرمایہ کاری کانفرنس کے انعقاد سے ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے میں کسی حد تک مدد ملے گی۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اس طرح کی کانفرنسوں کے ذریعے کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرنے اور مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی آراء معلوم کرنے کا موقع ملتا ہے جس سے نہ صرف حکومت کو پالیسیاں بنانے میں مدد ملتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھتا ہے۔‘‘

پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ انتہا پسندی اور دہشت گردی کو قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس بات کا اپنی تقریر میں ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی و انتہا پسندی کا سامنا رہا ہے جس سے اس کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے جب کہ توانائی کے سنگین بحران نے بھی معیشت کو بری طرح متاثر کیا۔

انہوں نے کہا، ’’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گزشتہ سال شروع کیے گئے فوجی آپریشن ضرب عضب کے قابل ذکر نتائج حاصل ہوئے ہیں اور اس ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔‘‘

انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے سرطان کو پاکستانی معاشرے کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک ’’ادارہ برائے پائیدار ترقی‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ حکومت کو سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ’’میرے خیال میں ہمیں اس کانفرنس سے وہ کچھ حاصل نہیں ہو سکا گے، جس کی ہم توقع کر رہے ہیں۔ حکومتی کوششوں کے باجود سرمایہ کاری میں قابل ذکر اضافہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی بڑا سرمایہ کار آئے تو اعلیٰ سطح پر اسے خوش آمدید کہا جاتا ہے لیکن جب وہ بجلی اور گیس کے کنکشن حاصل کرنے کے لئے واپڈا اور سوئی گیس کے دفاتر کے چکر میں پڑتا ہے تو صرف پانی کے کنکشن کے لئے اسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور وہ ایسی جگہوں پر پھنستا ہے تو پھر مسائل شروع ہوتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سرمایہ کار کے پاکستان پہنچنے سے لے کر اس کے کاروبار کے شروع کرنے تک ہر مرحلے پر اس کا خیال رکھے تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو۔