1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

 ’اس معاملے پر میں خاموش نہیں رہوں گی‘

شرمین عبید چنائے نے اپنی ان ٹوئٹس کی وضاحت کی ہے جن میں انہوں نے فیس بک پر اپنی بہن کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے والے ڈاکٹر پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی نامور فلم ساز شرمین عبید چنائے کا کہنا تھا کہ ان کی بہن ایمرجنسی میں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال گئی تھیں جہاں ان کی بہن کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے بعد میں ان کی بہن کو فیس بک فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی تھی۔ چنائے کا کہنا تھا کہ اس طرح سے ڈاکٹر نے ان کی بہن کو ہراساں کیا تھا۔ شرمین کی یہ ٹوئٹس سوشل میڈیا پر موضوع بحث گئیں۔ کچھ ایسی اطلاعات سامنے آئیں جن کے مطابق شرمین کی ٹوئٹس کے بعد اس ڈاکٹر کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

کئی افراد نے اس خاتون فلم ساز کی اس ٹوئٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس ڈاکٹر نے ’رانگ ویمن ان دا رانگ فیملی‘ کے ساتھ ایسا کیا ہے۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ اس جملے سے شرمین دنیا کو یہ بتانا چاہ رہی ہیں کہ ان کا تعلق ایک طاقت ور خاندان سے ہے۔ کچھ افراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ شرمین کو اس ڈاکٹر کے غیر پیشہ وارانہ رویے کی شکایت ہسپتال سے کرنی چاہیے تھی اور اس معاملے کو ٹوئٹر پر نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔

شرمین عبید چنائے نے آج ٹوئٹر استعمال کرتے ہوئے اپنی ان ٹوئٹس کی وضاحت  کردی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں لکھا ہے،’’ میں نے غصے میں جن الفاظ کا استعمال کیا، ان سے لوگوں کو مایوس ہوئی۔ میں نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیےکچھ نامناسب الفاظ استعمال کیے۔‘‘ شرمین نے کہا کہ ایک معروف شخصیت ہونے کے ناطے انہیں فیس بک پر دوستی کی بہت زیادہ درخواستیں ملتی ہیں لیکن انہوں نے کبھی اس کی شکایت نہیں کی لیکن ان کی بہن کو مختلف حالات میں دوستی کی ریکوئسٹ بھیجی گئی تھی۔ شرمین نے لکھا،’’ایک طبی معائنے کے لیے اس ڈاکٹر پر بھروسہ کیا گیا، معائنے کے بعد اس نے مریض کو سوشل میڈیا پر ڈھونڈا، اس کی تصاویر پر کامنٹس کیے اور اسے فیس بک پر اپنا دوست بنانے کی کوشش کی۔‘‘

پاکستانی فلمساز شرمین عبید نے دوسرا آسکر ایوارڈ جیت لیا

چنائے کے بیان کے آخر میں لکھا گیا ہے،’’ لوگ میری ٹوئٹس کرنے کے طریقے سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن درحقیقت بھروسہ توڑا گیا اور پیشہ وارانہ عقائد کی خلاف ورزی کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک عورت نے  محسوس کیا کہ اسے ہراساں کیا گیا ہے اس معاملے پر میں خاموش نہیں رہوں گی۔‘‘

چنائے کی اس ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے  ٹوئٹر کے صارف محمد اویس نے لکھا،’’ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ آپ کو ’ہراساں‘ کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘

شرمین عبید چنائے کے خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق ’متنازعہ‘ ٹوئٹس

ٹوئٹر کی صارفہ ردا باجوہ کا کہنا تھا،’’ اگر آپ نے فیس بک پر اپنی پوسٹس کو پبلک کیا ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی تصاویر پر کامنٹ کر سکتا ہے، آپ ڈاکٹر پر الزام عائد نہ کریں۔‘‘

مائرہ ظفر نے لکھا کہ اس سارے معاملے میں جو شرمین کے آسکر ایوارڈ پر تنقید کر رہے ہیں وہ دراصل اس کامیاب فلم ساز سے حسد کرتے ہیں۔ شرمین کے خیالات سے اتفاق کرنے والے ایک صارف حسن وقار کا کہنا تھا،’’ میں خود ایک ڈاکٹر ہوں، شکریہ کہ آپ نے خواتین کے لیے آواز اٹھائی جن کے ساتھ ہسپتالوں میں اس بھی زیادہ خراب رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔‘‘

DW.COM