اس سے قبل کہ مہاجرین سے متعلق یورپی نظام منہدم ہو جائے! | مہاجرین کا بحران | DW | 19.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اس سے قبل کہ مہاجرین سے متعلق یورپی نظام منہدم ہو جائے!

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ نے زور دیا ہے کہ شام اور دیگر ممالک سے یورپ آنے والے افراد کی بڑے پیمانے پر آبادکاری کرنا ہوگی اور انہیں یورپی ممالک میں ایک مربوط نظام کے تحت تقسیم کرنا ہوگا۔

یو این ایچ سی آر کے سربراہ انٹونیو گوٹیریس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ علاقوں سے ہجرت کر کے یورپ پہنچنے والے افراد کی تعداد اندازوں سے کئی گنا زیادہ ہے، اور اگر ان کی آبادکاری درست طریقے سے نہ کی گئی تو یورپ کا مہاجرین کے لیے بنایا گیا نظام منہدم بھی ہو سکتا ہے۔

گوٹیریس نے جمعے کے روز ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے اس اقدام کی تعریف کی جس میں یورپی ممالک نے یونان میں اپنی بارڈر ایجنسی فرنٹیکس کے اہل کاروں کی تعداد میں اضافے کی منظوری دی ہے۔ فیصلے کا مقصد شام اور عراق سے یونان کے ساحلی علاقوں میں پہنچنے والے مہاجرین کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کرنا بتایا گیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:40

چار لاکھ انتہائی بد حال پناہ گزينوں کے ليے فوری مدد درکار، ايمنسٹی

تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کافی نہیں ہے۔ ’’مہاجرین کی تعداد اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ لاکھوں میں ہے۔‘‘

واضح رہے کہ یورپی یونین نے صرف ایک لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین کی رکن ممالک میں آبادکاری کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

گوٹیریس نے مزید کہا، ’’جو صورت حال دکھائی دے رہی ہے، مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یورپ کا پناہ گزینوں سے متعلق نظام ہی منہ کے بل نہ گر پڑے۔‘‘

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک نو لاکھ اکانوے ہزار مہاجرین یورپ پہنچ چکے ہیں، اور آئندہ دنوں میں ان کی تعداد دس لاکھ تک ہو جائے گی۔

تاہم گوٹیریس نا امید نہیں ہیں۔ ’’اگر یورپ نے درست لائحہ عمل اختیار کیا، مہاجرین کی صحیح جانچ پڑتال کی، اور ان کو قاعدے کے ساتھ مختلف ممالک میں آباد کیا تو مسئلہ نہیں ہوگا۔ مہاجرین کی تعداد یورپ میں رہنے والے افراد کے تناسب سے انتہائی کم ہے۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’’ہم ہر ایک ہزار یورپی شہریوں کے مقابلے میں دو پناہ گزینوں کی بات کر رہے ہیں۔‘‘

گوٹیریس پرتگال کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ کی حیثیت سے دس برس تک کام کرنے کے بعد اپنے عہدے سے سبک دوش ہو رہے ہیں۔

اجلاس میں انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ شام کا بحران حل کرنے کی جلد از جلد کوشش کرے تاکہ مہاجرین کا مسئلہ بھی حل ہو سکے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic