1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اس سال دنیا کی آبادی سات بلین تک پہنچنے کے امکانات

خطہ ارض پر خام مال کی کمی ہوتی جا رہی ہے، زمینی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سال رواں میں دنیا کی آبادی سات بلین تک پہنچنے کی امید کی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

default

برلن میں قائم دنیا کی آبادی سے متعلق فاؤنڈیشن نے زمینی آبادی کے بارے میں اقوام متحدہ کی تازہ ترین پیش گوئی پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں 2100 ء سال تک دنیا کی آبادی کی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے جو کوئی خاص اطمینان بخش نہیں۔

اس رپورٹ میں محض بُری خبریں ہی شامل نہیں ہیں۔ 1950ء سے لے کر 60 کے عشرے تک دنیا بھر میں فی عورت بچے کی اوسط پیداوار نصف ہو گئی تھی یعنی پانچ بچوں سے کم ہو کر 2.5 رہ گئی تھی۔ یہ نتیجہ تھا، فیملی پلاننگ کی کامیابی کا۔ اس بارے میں دنیا کی آبادی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے نائب سربراہ تھوماس بُوٹنر کہتے ہیں۔

" اس وقت کی جو عالمی آبادی ہے، وہ دراصل اس شعبے میں ہونے والی ترقی اور آبادی میں اضافے پر قابو رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ورنہ دنیا کی آبادی موجودہ سطح سے کہیں زیادہ ہو سکتی تھی ۔ اگر 1950 ء سے فیملی پلاننگ پر عمل در آمد شروع نہ ہوتا اور اس سلسے کو کامیابی سے آگے نہ بڑھایا گیا ہوتا تو آج دنیا کی آبادی کی صورتحال کچھ اور ہوتی۔"

اگر بچوں کی پیدائش کی موجودہ شرح برقرار رہی تو اس صدی کے اواخر تک انسانوں کی کُل تعداد 27 بلین ہو جائے گی

اگر بچوں کی پیدائش کی موجودہ شرح برقرار رہی تو اس صدی کے اواخر تک انسانوں کی کُل تعداد 27 بلین ہو جائے گی

غریب ممالک، جن میں آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، وہاں کی صورتحال پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ ان معاشروں میں مستقبل میں بھی بچوں کی پیدائش میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ اگر دنیا بھر میں بچوں کی پیدائش کی موجودہ شرح برقرار رہی تو اس صدی کے اواخر تک خطہ ارض پر انسانوں کی کُل تعداد 27 بلین ہو جائے گی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ موجودہ آبادی سے چار گنا زیادہ۔ محض افریقی ملک نائجیریا کی آبادی دو بلین سے تجاوز کر جائے گی۔ اس کے برعکس جرمنی کی آبادی نصف ہو جائے گی ، جبکہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین میں انسانوں کی تعداد کم ہو کر 500 ملین رہ جائے گی۔

تاہم اقوام متحدہ کے ماہر بُوٹنر کا کہنا ہے کہ دنیا کی آبادی سے متعلق ماضی کے بہت سے رجحانات مثلاً خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں تک رسائی، اموات کی شرح میں کمی وغیرہ مستقبل میں بھی اتنی ہی اہمیت کے حامل رہیں گے، خاص طور سے فیملی پلاننگ اور ماؤں اور بچوں کی اموات میں کمی کا رجحان۔

ان مفروضات کی بنیاد پرکہ، مستقبل میں غریب اور غربت کی نچلی ترین سطح سے بھی نیچے معاشروں میں فی عورت بچے کی پیدائش کی شرح میں کمی واقع ہوگی، اقوام متحدہ کے ماہر آبادیات 2100 ء تک دنیا کی آبادی کے 10 بلین ہوجانے کا اندازہ لگا رہے ہیں۔

رپورٹ: پیٹر اشٹُٹسلے/ کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس