1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اس سال دنیا بھر میں ایک سو بائیس صحافی مارے گئے

آج ہفتے کے روز ختم ہوتے ہوئے سال دو ہزار سولہ میں دنیا بھر میں کُل ایک سو بائیس صحافی مارے گئے۔ ان میں سے ترانوے صحافی اور میڈیا کارکنوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا جبکہ انتیس صحافی دو مختلف فضائی حادثوں میں ہلاک ہوئے۔

Symbolbild Tag der Pressefreiheit (AFP/Getty Images/P. Baz)

اس سال ترانوے صحافیوں کو ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز سے ہفتہ اکتیس دسمبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق یہ بات صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب سال 2016ء کے لیے جاری کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں بتائی۔

اس رپورٹ کے مطابق رواں برس دنیا کے مختلف ملکوں میں مارے جانے والے مجموعی طور پر 122 نامہ نگاروں، پریس فوٹو گرافروں اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے دیگر پیشہ ور کارکنوں میں سے 93 مختلف بم دھماکوں اور تنازعات کے شکار علاقوں میں متحارب فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے جبکہ باقی 29 صحافی دو ہوائی جہازوں کی تباہی کے واقعات میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عراق: سینیئر خاتون صحافی کو اغوا کر لیا گیا

گزشتہ تین دہائیوں کے مقابلے میں سب زیادہ صحافی جیل میں، رپورٹ

پاکستانی میڈیا کو تنبیہ لیکن سیرل المیڈا پر سفری پابندیاں ختم

آئی ایف جے کی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس باقاعدہ نشانہ بنا کر ہلاک کیے جانے والے صحافیوں کی مجموعی تعداد 112 رہی تھی جبکہ اس سال یہ تعداد 100 سے کم یعنی 93 رہی۔ عراق دنیا کا وہ واحد ملک تھا، جو صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا۔ 2016ء میں عراق میں کُل 15 صحافی مارے گئے۔

Irak Pressefreiheit Symbolbild (picture-alliance/dpa/M. Messara)

اس سال سب سے زیادہ صحافی عراق میں مارے گئے، جن کی تعداد پندرہ بنتی ہے

Symbolbild Pressefreiheit (picture-alliance/dpa)

دنیا بھر میں سینکڑوں صحافی جیلوں میں بند ہیں یا ان پر تشدد کیا جاتا ہے

اس رپورٹ کے مطابق عراق کے بعد افغانستان صحافیوں کے لیے دنیا کا دوسرا سب سے پرخطر ملک ثابت ہوا، جہا‌ں اس سال مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد 13 رہی۔ اس کے علاوہ میکسیکو میں بھی اس سال 11 صحافی مارے گئے۔

اسی سال دنیا کے جن دیگر ممالک میں سب سے زیادہ صحافی مارے گئے، ان میں یمن، گوئٹے مالا، شام، پاکستان اور بھارت کے نام نمایاں ہیں۔ یمن، گوئٹے مالا اور شام میں آٹھ آٹھ صحافی جبکہ پاکستان اور بھارت میں پانچ پانچ صحافی مارے گئے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے صدر فیلیپ لرُوتھ کے مطابق اس سال ٹارگٹ بنا کر قتل کیے جانے والے صحافیوں کی تعداد اگرچہ گزشتہ برس کے دوران ایسی ہلاکتوں کے مقابلے میں کم رہی تاہم ’میڈیا کارکنوں کے خلاف تشدد کے ہلاکت خیز استعمال میں معمولی کمی‘ کے باوجود یہ حقیقت تاحال بہت پریشان کن ہے کہ ’میڈیا کارکنوں کی سلامتی کے حوالے سے موجودہ بحرانی حالات کے خاتمے کی مستقبل قریب میں بھی کوئی امید نظر نہیں آتی‘۔

Ostukraine Reporter Soldat Symbolbild Pressefreiheit (Imago/ITAR-TASS)

مشرقی یوکرائن کا تنازعہ: ایک مسلح سرکاری فوجی ایک پریس فوٹوگرافر کو واپس چلے جانے کی تنبیہ کرتے ہوئے

اس سال دو مختلف فضائی حادثات میں جو 29 دیگر صحافی مارے گئے، ان میں سے برازیل کے 20 صحافی کولمبیا میں تباہ ہونے والے ایک مسافر ہوائی جہاز میں سوار تھے جبکہ ایک دوسرے ایئر کریش میں نو روسی میڈیا کارکن اس وقت ہلاک ہو گئے جب وہ ایک طیارے میں سوار شام جا رہے تھے۔

DW.COM