1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ اسے کہتے ہیں (مارشل) لاء ‘

اسلام آباد میں رینجرز کی جانب سے مسلم لیگ نون کے نمائندوں کو احتساب عدالت کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کے عمل کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف آج مالی بد عنوانی کے کیس میں اسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر مسلم لیگ نون کے کارکنان نے بھی عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں رینجرز کے اہلکاروں نے اندر نہیں جانے دیا۔  اس پر احتجاج کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’ مارشل لاء میں بند کمروں میں عدالتی کیسز چلتے ہیں جمہوریت میں شفاف ٹرائلز ہوتے ہیں اور عوام اور میڈیا کا حق ہے کہ وہ کیس کا مشاہدہ کر سکیں۔‘‘

احسن اقبال نے کہا کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ نواز شریف کو چند ساتھیوں، مخصوص صحافیوں اور وکلاء  کے ساتھ عدالت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ احسن اقبال نے کہا،’’ صبح مجھے چیف کمشنر نے اطلاع دی کہ آج رینجرز اچانک نمودار ہوئے ہیں اورانہوں نے اس جگہ کی سکیورٹی سنبھال  لی ہے۔‘‘ احسن اقبال نے کہا کہ رینجرز وزارت داخلہ اور چیف کمشنر کے ماتحت ہوتے ہیں اور اگر انہوں نے چیف کمشنرکی حکم عدولی کی ہے تو اس کی اعلیٰ ترین سطح پر انکوائری ہونی چاہیے۔‘‘

تاہم پاکستانی صحافی حامد میر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ایسا نوٹس شیئر کیا جس میں ایس ایس پی اسلام آباد نے چیف کمشنر اسلام آباد کو خط میں لکھا ہے کہ 2 اکتوبر کو سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر رینجرز پولیس کے ہمراہ کام کرے گی۔‘‘ 

سوشل میڈیا پر بھی کئی افراد نے اس واقع پر تبصرے کیے۔ ایک صارف محمد انوار الحق نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا،'' ہم دنیا کو کیا بتا رہے ہیں ؟ کیا پاکستان میں صرف نام کی جمہوریت ہے ؟ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی افواج یہ سمجھ لیں کہ ملکوں کے پاس فوج ہوتی ہے ناکہ فوج کے پاس ملک ہوتے ہیں۔‘‘

تجزیہ کار ماریہ سرمد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ رینجرز نے آج کیا ثابت کیا ہے یا تو یہ قانون تسلیم نہیں کرتے یا پھر یہ ’چین آف کمانڈ‘ کا احترام نہیں کرتے۔‘‘

صحافی طلعت حسین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ عدالت کے جج کا کہنا ہے کہ انہوں نے رینجرز کو نہیں بلایا۔ وزیر داخلہ نے بھی نہیں بلایا۔ اسے کہتے ہیں (مارشل) لاء ۔‘‘

DW.COM