1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسکول میں مسلمان طالب علم کی نماز پر جرمن عدالت کا فیصلہ

جرمنی کی ایک وفاقی عدالت نے اسکول میں نماز پڑھنے والے ایک طالب علم پر پابندی کے لیے پرنسپل کی حمایت کی ہے۔ یہ فیصلہ مختلف فرقوں کے مسلمان طالب علموں کے درمیان کشیدگی سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔

default

لائپزش میں قائم جرمنی کی وفاقی انتظامی عدالت نے ایک مسلمان طالب علم کی جانب سے برلن کے ایک اسکول میں نماز کی ادائیگی کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس اسکول میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا۔

عدالت نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ صرف اس مقدمے میں بیان کیے گئے مخصوص حالات پر ہی نافذ ہوتا ہے اور اسے اسکول کے مخصوص حالات کے تناظر میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ آئین عبادت کے حق کی ضمانت دیتا ہے، حتیٰ کہ اسکول میں بھی۔

بتایا گیا ہے کہ اس اسکول میں پانچ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان طلبا ہیں، جو ماضی میں بعض طالب علموں کے طریقہ نماز پر اعتراض کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے اسکول میں نقصِ امن کا خطرہ ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد اس طالب علم کو اپنے ہائی اسکول کے برآمدے میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں، حتیٰ کے دورانِ وقفہ بھی۔

عدالتی بیان میں کہا گیا: ’’عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسکول کے برآمدے میں نماز کی ادائیگی سے اشتعال کا خطرہ ہے، جس کا اسکول کی کمیونٹی کو پہلے سے ہی سامنا ہے۔‘‘

Flash-Galerie Berlin Festival of Lights 2011

یہ مقدمہ برلن کے ایک اسکول سے متعلق ہے

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسکول نماز کے لیے علیحٰدہ کمرے کا انتظام نہیں کر سکتا۔ بیان میں مزید کہا گیا: ’’اسکول کی کمیونٹی کے امن سے ہماری مراد ایک ایسا ماحول ہے جو تنازعات سے پاک ہو، اور جس میں تدریس کا عمل احسن طریقے سے انجام دیا جا سکے۔‘‘

عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ برلن کے اس اسکول میں مسلمان طلبا کے درمیان ان الزامات کے بعد ایک تنازعہ کھڑا ہو چکا ہے کہ بعض طالب علموں کا طریقہ نماز قرآن کی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ مقدمہ دوہزار سات کا ہے، جب ایک طالب علم نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ اسکول کے وقفے کے دوران برآمدے میں نماز کی ادائیگی کا اہتمام کیا تھا۔ دوسرے فرقوں کے مسلمان طالب علموں نے ان کی جانب سے ادائیگیِ نماز کے طریقہ کار پر اعتراض کیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس