1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسکول بس پر حملے میں چار بچے ہلاک

پشاور کے ایک نواحی علاقے میں اسکول بس پر راکٹ حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں چار بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بچے اسکول سے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔

default

یہ حملہ پاکستانی صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے نواحی علاقے متنی میں ہوا، جو قبائلی علاقے کے ساتھ واقع ہے۔

پولیس کے مطابق بس کا ڈرائیور بھی ہلاک ہو گیا ہے۔  خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اعلیٰ پولیس اہلکار اعجاز خان کا کہنا ہے کہ بس کو نشانہ کیوں بنایا گیا، اس پہلو پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق حملہ ‌آوروں نے بس کو گولیوں اور راکٹوں سے نشانہ بنایا۔

ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں نو سے چودہ سال کے درمیان ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسکول سے چھٹی کے بعد بس بچوں کو گھروں کو چھوڑنے کے لیے جا رہی تھی۔  پولیس آفیسر کلام خان نے بتایا: ’’حملہ آور کھیتوں میں چھپے انتظار کر رہے تھے، جیسے ہی بس قریب پہنچی تو انہوں نے حملہ کر دیا۔ پہلے انہوں نے راکٹ فائر کیا اور پھر فائرنگ شروع کر دی۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ڈاکٹر حبیب خٹک نے بتایا کہ حملے کے بعد وہاں لائے گئے زخمیوں کی تعداد اٹھارہ ہے، جن میں سے بارہ بچے ہیں جبکہ دیگر اساتذہ اور راہگیر ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ بچے اعلیٰ انگلش میڈیم اسکول (خیبر اسکول) کے طلباء تھے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ اہم ہے کہ اسلام پسند ایسے طرز تعلیم کے مخالف ہیں اور وہ اسے مغرب سے درآمد شدہ سکیولر تعلیم قرار دیتے ہیں۔

ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم پاکستان میں دوہزار سات سے اب تک ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں چار ہزار چھ سو تیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان حملوں کی ذمہ داری طالبان اور دہشت گرد گروہ القاعدہ سے وابستہ نیٹ ورکس پر ڈالی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقے کو خطرناک ترین خطہ قرار دیتا ہے۔ واشنگٹن حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج پر حملوں اور دہشت گردی کی دیگر کارروئیوں کے منصوبے اسی علاقے میں بنائے جاتے ہیں۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس