1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسپیڈ ریڈنگ

آپ ایک منٹ میں کتنے الفاظ پڑھ سکتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی اپنی پڑھنے کی رفتار تیز کرنے کی کوشش کی یا اس بارے میں سوچا ہے؟ جرمنی میں بہت سے لوگ ہیں جو اپنی اس صلاحیت کو بڑھانے کے لئے سیمنارز میں شرکت کر رہے ہیں۔

default

کیا کبھی آپ نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ آپ ایک منٹ میں کتنے الفظ پڑھ لیتے ہیں؟ کتنے الفاظ ہیں جو ایک منٹ میں آپ کی نظروں کے سامنے سے گزرتے ہیں؟

جرمنی میں اسپیڈ ریڈنگ کے رجحان میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اب اس قسم کے سیمینمارز کی تعداد بڑھ گئی ہے، جن میں مختلف کمپیناں اپنے ملازموں کو اسپیڈ ریڈنگ کی تربیت دینے کے لئے بھیجتی ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ نجی طور پر بھی لوگ ان میں شرکت کر رہے ہیں۔

Frau liest Zeitung

مختلف کمپناں اپنے ملازمین کو اسپیڈ ریٹڈنگ کے سیمینارز کرواتی ہیں

اسپیڈ ریڈنگ کے فائدے کیا ہیں اور کیا واقعی ان سیمینارز یا اضافی تربیت سے کوئی پڑھنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھا سکتا ؟ کہتے ہیں کہ ایک منٹ میں ایک شخص200 الفاظ تک پڑھ سکتا ہے۔ لیکن سابق امریکی صدر کینیڈی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہزار الفاظ تک پڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ پڑھنے کی صلاحیت میں اضافے کی تربیت دینے والے ایک استاد یورگن ہامپے نے بتایا کہ پہلے وہ خود بھی بہت آہستہ آہستہ پڑھتے تھے لیکن اب ان کی رفتاربہت تیز ہوگئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے اس حوالے سے سیمیناز منعقد کرانا شروع کئے تو ان کی رفتار178 الفاظ فی منٹ تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ صحیح طورپر انسان دوسری مرتبہ میں سیکھتا ہے۔ یہ عمل تجسس سے بھرپور ہوتا ہے اور سیکھنے کا عمل مزید تیز ترہو جاتا ہے۔

جو بھی تیز پڑھنے کےکسی کورس میں حصہ لیتا ہے اسے اپنے دماغ کی اس پیچیدہ صلاحیت کا زیادہ استعمال کرنا پڑتا ہے جو پڑھنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ ایلکے بٹنر کمپیوٹر کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ان کےکام کی نوعیت ایسی ہے کہ جس میں انہیں بہت زیادہ پڑھنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پڑھنا فارغ وقت کی ایک بہترین مصروفیت ہے اوراس رجحان میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ کیونکہ اب لوگوں کے پاس وقت کم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کوملازمت کے حوالے سے بہت کچھ پڑھنا پڑتا ہے، جس کے باعث سکون کے ساتھ پڑھنے کی خواہش اور مواقع کم ہوتے جاتے ہیں۔

Lesen, Buch, Bücher

اسپیڈ ریڈنگ میں تیزی سے پڑھنے کے ساتھ مضمون کہ تیزی سے سمجھنا بھی سکھایا جاتا ہے

ایلکے نے مزید بتایا کہ ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے کہ انہیں اب اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھنےکا وقت کم ملتا ہے۔ انسان کی آنکھ ایک وقت میں صرف مخصوص تعداد میں چیزوں کو پہچان سکتی ہے، جسے دماغ، معقول جملوں کی شکل میں ڈھالتا ہے۔ ان سیمینارز میں اسپیڈ ریڈنگ بالکل اسی طرح سکھائی جاتی ہے جیسے کسی بچےکو پڑھنا سکھایا جاتا ہے۔ یورگن کہتے ہیں کہ سیمینار میں شرکت کرنے والوں کو یہ بھی بتایا جاتا ہےکہ ہرمضون کو تیزی سے نہیں پڑھا جا سکتا۔ یورگن مزید کہتے ہیں کہ اگر تیزی سے پڑھا جائے تو بہت سے ایسے الفاظ ہوتے ہیں جو آپ سمجھ نہیں پاتے۔ اسی لئے ان یہ سیمینارز میں صرف اسپیڈ ریڈنگ ہی نہیں بلکہ ساتھ میں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ مضمون کو سمجھا کس طرح جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے مشہور برطانوی فلسفی فرانسس بیکن نے کہا تھا کہ کچھ کتابیں صرف چکھنے کے لئے ہوتی ہیں، دوسری پوری طرح سے نگلنے کے لئے اور کچھ کو ہضم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ کتابوں کے صرف چند حصے ہی پڑھنے چاہیں، بعض کو سرسری طور پر پڑھا جانا چاہیے، سمجھنا ضرروی نہیں ہے جبکہ کچھ کو پوری دھیان اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : افسر اعوان