1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسپین کے علاقائی انتخابات، حکمران جماعت کی شکست

اسپین کی حکمران سوشلسٹ پارٹی کو علاقائی انتخابات میں شکست ہوئی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق نوّے فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر پاپولر پارٹی کو دس فیصد کی برتری حاصل ہے۔

اسپین کے وزیر اعظم ساپاتیرو ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن میں

پاپولر پارٹی (پی پی) کو اسپین کی تمام علاقائی حکومتوں میں کامیابی مل رہی ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں اسے بیس لاکھ ووٹوں سے فتح ملی ہے۔ پی پی کے رہنما Mariano Rajoy نے جیت کا جشن منانے والے حامیوں سے خطاب میں کہا، ’ہماری جماعت کے لیے یہ دِن بہت خوبصورت ہے۔ ہم نے علاقائی انتخابات میں پارٹی کی تاریخ میں اب تک کے زبردست نتائج حاصل کیے ہیں۔‘

اسپین کے وزیر اعظم لوئیس روڈریگیس ساپاتیرو نے علاقائی انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست تسلیم کر لی ہے۔ تاہم انہوں نے قبل از وقت عام انتخابات کے انعقاد کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

مالیاتی بحران کے حوالے سے انہوں نے کہا، ’اس کے نتیجے میں ملازمتوں کے ہزاروں مواقع ضائع ہو گئے۔ یہ ایسا بحران ہے، جس نے شہریوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے میں جانتا ہوں کہ بہت سے شہری انتہائی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ایسے ہی شہریوں نے انتخابات کے دِن اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اسپین کے وزیر اعظم نے اپنے دورِ اقتدار کے آخر تک ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

اسپین کے مختلف شہروں میں بے روزگاری کے خلاف مظاہرے بھی جاری ہیں

خبررساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ سوشلسٹ پارٹی کے اندر اور باہر کے ذرائع قبل از وقت انتخابات کے لیے وزیر اعظم پر دباؤ دے سکتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ علاقائی انتخابات کے نتائج ہمیشہ عام انتخابات پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ پھر بھی پاپولر پارٹی اتوار کے انتخابات میں جیت کو قومی سطح تک لے جانا چاہے گی۔

پاپولر پارٹی (پی پی) کی جانب سے بھی قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ تاہم اس جماعت کو پارلیمنٹ میں اتنی اکثریت حاصل نہیں کہ وہ عدم اعتماد کا ووٹ جیت سکے۔

یہ انتخابات ایسے وقت ہوئے، جب اسپین میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور معیشت کے حوالےسے حکومتی طرز عمل کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری تھے۔ میڈرڈ اور دیگر شہروں میں مظاہروں میں شریک افراد میں زیادہ تر نوجوان ہیں، جن کا کہنا ہے کہ احتجاج جاری رہے گا۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM