1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسپین کے شہر لورکا میں زلزلہ، 10افراد ہلاک

اسپین کے تاریخی شہر لورکا میں زلزلے کے نتیجے میں کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بدھ کی شام اس زلزلے سے دو گھنٹے پہلے چار اعشاریہ چار شدت کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

default

اسپین کے جنوب مشرقی شہر لورکا میں بدھ کو آنے والے اس زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت پانچ اعشاریہ تین بتائی گئی ہے، جس کے نتیجے میں معروف سیاحتی علاقے مورسیا بھر میں جھٹکے محسوس کیے گئے۔

اس تباہی کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں اور تاریخی گرجا گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔زلزلے کے بعد متاثرہ ایک گرجا گھر کے قریب کھڑا ایک ٹیلی ویژن رپورٹر اس وقت بال بال بچ گیا، جب اس عبادت گاہ کا ایک حصہ اچانک گر پڑا۔

اسپین کے نیشنل جیوگرافیکل انسٹیٹیوٹ کے مطابق یہ زلزلہ بدھ کی شام مقامی وقت کے مطابق چھ بچ کر سینتالیس منٹ پر آیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اس کا مرکز ایک کلومیٹر زیرِ زمین تھا۔ اس سے پہلے اسپین میں خطرناک زلزلہ 1997ء میں آیا تھا۔ امریکی جیولوجیکل سینٹر کے مطابق اس زلزلے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔

میڈرڈ حکومت نے دو سو اہلکاروں پر مشتمل ملٹری ٹاسک فورس علاقے میں بھیج دی ہے، جہاں متاثرہ افراد کی تعداد دس ہزار ہے۔ اسپین کے نائب وزیر اعظم الفریڈو پیریز جمعرات کو مورکا کا دورہ کریں گے، جس کی مجموعی آبادی نوّے ہزار ہے۔

لوگ گھروں کو لوٹنے سے خوفزدہ رہے

مورسیا میں مرکزی حکومت کے مندوب رافائیل گونزالیس نے نیشنل ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’لوگ بہت ڈرے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے گھروں کو لوٹتے ہوئے خوفزدہ ہیں۔ لورکا کے مرکز کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔‘

لورکا میں ایک خاتون نے بتایا، ’ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ ہر چیز ہلنا شروع ہو گئی۔ تصویریں دیوار سے گر پڑیں، ٹیلی وژن سیٹ بھی گر گیا۔ ہم نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو لوگ اِدھر اُدھر دوڑ رہے تھے۔‘

دوسری جانب اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہزاروں افراد نے بدھ کو زلزلے کے خوف سے دفاتر اور اسکولوں کا رُخ نہیں کیا۔ دراصل روم کے بارے میں کئی دہائیوں سے یہ پیش گوئی چلی آ رہی تھی کہ گیارہ مئی 2011ء کو یہ شہر تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہو جائے گا۔

اٹلی کے مرکزی علاقے میں 2009ء میں چھ اعشاریہ تین شدت کے زلزلے کے نتیجے میں دو سو پچانوے افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس