1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسپین کےکنیری جزائر پر سیاحوں کا ہجوم

مصر اور تیونس میں سیاسی تبدیلیوں کے باعث رواں سال فروری اور اس کے بعد سے سیاحوں نے اسپین کے خوبصورت کنیری جزائر کا رخ کرلیا ہے۔ اس باعث کنیری کی معشیت کو خوب فائدہ پہنچ رہا ہے۔

default

برسوں سے یورپ سے سیاحوں کی بڑی تعداد گرم موسم کا لطف اٹھانے کے لیے مصر اور تیونس کا رخ کرتی رہی ہے۔ تیونس اور مصر کے ساحلی علاقے یورپی سیاحوں سے بھرے رہتے تھے۔ تاہم ان دونوں ان ملکوں میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے بعد یورپی سیاحوں نے اسپین کے کنیری جزائر کا رخ کر لیا ہے۔

Playa de las Americas

کنیری جزائر پر سیاح

کنیری جزائر مراکش کے ساحل کے قریب واقع ہے۔ گزشتہ برس سے فروری تک ان جزائر پر نو لاکھ سے زائد سیاح پہنچے۔ کنیری کے محکمہ سیاحت کے مطابق سیاحوں کی آمد میں حوصلہ افزاء اضافہ مقامی اور قومی خزانے کے لیے فائدہ مند ہوا ہے۔ کنیری پہنچنے والے سیاحوں کی وجہ سے سیاحت کی غرض سے اسپین جانے والوں کی تعداد میں سوا چار فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے وہاں کی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سیاحوں سے حاصل ہونے والا مالی فائدہ کمزور ہوتی ہسپانوی اقتصادیات کے لئے یقینی طور پر حوصلہ افزا ہے۔

کنیری جزائر کا مجموعہ براعظم افریقہ کے شمال مغرب میں بحر اوقیانوس کے اندر واقع ہے۔ ایک درجن سے زیادہ چھوٹے بڑے جزائر سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔ ان کے ساحلی علاقے پرسکون ہونے کی وجہ سے یورپی سیاحوں کو پسند ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے سیاحت کے شعبے میں مصر کے شرم الشیخ اور تیونس میں بحیرہ روم کی ساحلی پٹیوں کا کنیری جزائر سے خاصا مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہسپانوی مرکزی حکومت اور کنیری جزائر کی خودمختار انتظامیہ نے اشتہارات کی مد میں بہت رقم رکھی ہوئی ہے۔ اس میں یورپی سیاحوں کے لیے کئی غیر معمولی ترغیبات بھی شامل ہیں۔

سن 2010 میں اسپین کی جانب سیاحوں کا رخ قدرے کم رہا تھا۔ وہ عالمی درجہ بندی میں تیسرے سے چوتھے مقام پر پہنچ گیا تھا لیکن مصر اور تیونس کے سیاسی حالات کی وجہ سے اسپین کی سیاحتی صنعت کو بھرپور فائدہ پہنچا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس