1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسپین میں وزیر اعظم راخوئے کے لیے حکومت سازی کا راستہ ہم وار ہو گیا

اسپین کی سوشلسٹ جماعت نے قدامت پسند حکمران پاپولر پارٹی کو اقلیتی حکومت بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ گزشتہ برس بیس دسمبر سے اسپین میں کوئی مستقل حکومت نہیں ہے۔

متعدد انتخابات میں غیر فیصلہ کن نتائج کے بعد اسپین میں حکومت سازی کے عمل میں کئی پیچیدگیاں دیکھنے میں آئی تھیں۔ سوشلسٹ جماعت پی ایس او ای کے ترجمان کا اتوار کے روز کہنا تھا کہ وہ پاپولر پارٹی کی جانب سے حکومت سازی کی مخالفت نہیں کریں گے۔

اتوار کے روز سوشلسٹ پارٹی نے پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری میں حصہ لیتے ہوئے اس قراردار کے خلاف ووٹ ڈالے جس کے ذریعے پاپولر پارٹی کو حکومت سازی کے لیے روکا جانا تھا۔ یوں دس ماہ سے جاری سیاسی عدم استحکام ختم ہونے کا امکان ہو گیا ہے اور نئے انتخابات کی ضرورت شاید اب نہ پڑے۔

سوشلسٹ پارٹی کی کمیٹی کے ایک سو انتالیس ارکان نے وزیر اعظم ماریانو راخوئے کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ نہ ڈالنے کا جب کہ چھیانوے نے اس کے خلاف فیصلہ کیا تھا۔

راخوئے کو اس وقت تیس سو پچاس رکنی پارلیمنٹ میں ایک سو ستر ارکان کی حمایت حاصل ہے، جس میں ایک سو سینتیس کا تعلق پاپولر پارٹی سے ہے۔ تاہم ان کو عدم اعتماد کی تحریک کے خلاف دیگر جماعتوں کے ووٹ یا ان کا ووٹنگ میں شریک نہ ہونا درکار تھا، جو کہ سوشلسٹ پارٹی کے فیصلے کے بعد ممکن ہو گیا۔

تین دہائیوں سے اسپین میں دو جماعتی نظام قائم ہے، جس میں پاپولر پارٹی اور سوشلسٹ برسر اقتدار رہے ہیں، تاہم دسمبر میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں کئی چھوٹی جماعتوں نے بھی عمدہ کارکردگی دکھائی۔ دسمبر کے انتخابات کے نتائج کو وزیر اعظم ماریانو راخوئے کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا گیا تھا۔ اسپین کی سیاسی تاریخ میں یہ پاپولر پارٹی کی خراب ترین کارکردگی تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومتی سطح پر بدعنوانی کے متعدد اسکینڈلز اور ملک میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری نے ہسپانوی عوام کو حکمران جماعت سے بدظن کر دیا تھا۔ دوسری جانب سوشلسٹ پارٹی اس صورت حال سے کوئی خاص سیاسی اور انتخابی فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔

اسپین کی صورت حال پڑوسی ملک پرتگال سے مطابقت رکھتی ہے، جہاں گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں قدامت پسندوں کو فتح تو حاصل ہو گئی تھی تاہم حکومت بنانے میں سوشلسٹ کامیاب ہوئے تھے۔

اسپین میں ایک نئی سیاسی طاقت پوڈیموس پارٹی بن کر ابھری ہے۔ یہ جماعت بجتی کٹوتیوں کی مخالف ہے۔ سوشلسٹوں کی جانب سے راخوئے کی حمایت سے قبل حکومت سازی کے لیے اس جماعت کی حمایت حاصل کرنا ضروری سمجھا جا رہا تھا۔

 مبصرین کے مطابق یہ صورت حال یورپ بھر میں ایک رجحان کا اشارہ دے رہی ہے۔ دو بڑی جماعتوں کی اجارہ داری ٹوٹ رہی ہے اور نئی جماعتیں، خواہ وہ بائیں بازو کی سیاست کر رہی ہوں یا دائیں بازو کی، یورپی ممالک کی سیاست میں نمایاں ہو رہی ہیں۔