1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اسپین میں سیاسی پناہ کا نظام فرسودہ، ایمنسٹی

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہسپانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس یورپی ملک میں سیاسی پناہ کے موجودہ نظام میں اصلاحات لائے۔ انسانی حقوق کی اس بین الاقوامی تنظیم کے مطابق سیاسی پناہ سے متعلق ہسپانوی نظام ’فرسودہ اور غیر مؤثر ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسپین میں مہاجرین اور تارکین وطن کو پناہ دینے کا نظام مؤثر طریقے سے کام نہیں کر رہا، اس لیے اس میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

DW.COM

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں اسپین میں اس نظام کو ’فرسودہ‘ ’غیرمؤثر‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ نظام ’ناکارہ اور امتیازی‘ ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق اسپین میں ’شرمناک حد تک‘ کم تارکین وطن کو دی جانے والی سیاسی پناہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نظام میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔

یورپی شماریاتی ادارے یورو اسٹَیٹ کے مطابق اسپین میں گزشتہ برس صرف ایک ہزار تیس مہاجرین اور تارکین وطن کو پناہ دی گئی۔

دوسری طرف اسپین کے ہمسایہ ملک فرانس نے اسی عرصے کے دوران چھبیس ہزار سے زائد جبکہ بلغاریہ نے پانچ ہزار چھ سو پانچ افراد کو پناہ دی۔

اسی طرح جرمنی میں مہاجرین کی ریکارڈ آمد دیکھی گئی، جہاں چار لاکھ 75 ہزار مہاجرین نے پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں جبکہ ایک لاکھ چالیس ہزار غیر ملکیوں کی درخواستیں منظور بھی کر لی گئیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسپین میں پناہ کے متلاشی 80 افراد اور مہاجرین سے خصوصی انٹرویو کرنے کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔

اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسپین میں سیاسی پناہ کے موجودہ نظام میں رکاوٹیں حائل ہیں جبکہ مہاجرین کی مالی امداد میں بھی بے ضابطگیاں ہوتی ہیں، جن کی وجہ سے کچھ مہاجرین سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اسپین میں ایمنسٹی کے ڈائریکٹر Esteban Beltran کے مطابق کچھ یورپی ملکوں کی حکومتوں کی طرح میڈرڈ حکومت بھی مہاجرین کو پناہ دینے کے حوالے سے پرعزم نہیں ہے جبکہ عوامی رائے کو دیکھا جائے تو عام شہری مہاجرین کو پناہ دیے جانے کے حق میں ہیں۔

Spanien Mallorca Graffiti Tourist go home

ایمنسٹی کے مطابق اسپین میں ’شرمناک حد تک‘ کم تارکین وطن کو دی جانے والی سیاسی پناہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نظام میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے

اسپین کا شمار ایسے یورپی ممالک میں ہوتا ہے، جہاں پناہ کی درخواستیں جمع کرانے کی شرح انتہائی کم ہے۔ گزشتہ برس مختلف شورش زدہ ملکوں سے تقریباﹰ 1.3 ملین مہاجرین اور تارکین وطن یورپی یونین کے مختلف رکن ممالک میں پہنچے تھے، جنہیں اس بلاک کے مختلف ممالک میں منصفانہ طور پر تقسیم کیے جانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت اسپین نے سترہ ہزار مہاجرین کو پناہ دینے کا عہد کیا تھا۔

تاہم ایمنسٹی کے مطابق اسپین میں سیاسی پناہ کے موجودہ نظام میں سست روی اور اس میں رکاوٹوں کی وجہ سے فوری طور پر وہاں مہاجرین کی درخواستوں پر فیصلے اور عملدرآمد مشکل ہیں۔ اس ادارے کے مطابق جو مہاجرین اور تارکین وطن اسپین پہنچ چکے ہیں، انہیں بھی مسائل کا سامنا ہے۔

اسپین میں مروجہ قوانین و ضوابط کے تحت ان مہاجرین کو وہاں قائم رجسٹریشن سینٹرز میں نو ماہ قیام کرنا پڑتا ہے تاہم کئی مسائل کی وجہ سے بہت سے مہاجرین کئی سالوں سے وہاں اپنی درخواستوں پر فیصلوں کے منتظر ہیں۔